banner image

بی ‏بی ‏سیدہ ‏خدیجہ ‏سلام ‏اللہ ‏علیھا ‏کا ‏مختصر ‏تعارف ‏???????۔ ‏

بسمہ تعالی ۔ 

F۔H۔B

🌹 حضرت خدیجۂ کبرٰی سلام اللہ علیہا 🌹

خَدیجَہ بنت خُوَیلِد (متوفی سنہ 10 بعثت) خدیجۃ الکبری و ام المومنین کے نام سے مشہور، پیغمبر اکرمؐ کی اولین زوجہ اور حضرت زہراؑ کی مادر گرامی ہیں۔ آپ نے بعثت سے پہلے حضرت محمدؐ کے ساتھ شادی کی۔ آپ آنحضرت پر ایمان لانے والی پہلی خاتون ہیں۔

حضرت خدیجہؑ نے اپنی ساری دولت اسلام کی راہ میں خرچ کی۔ پیغمبر اکرمؐ نے حضرت خدیجہؑ کے احترام میں ان کی زندگی کے دوران دوسری زوجہ اختیار نہیں کی اور آپ کی وفات کے بعد بھی آپ کو اچھے الفاظ میں یاد فرماتے تھے۔

پیغمبر اکرمؐ کے حضرت خدیجہؑ سے دو بیٹے قاسم و عبداللہ اور ایک بیٹی حضرت فاطمہؑ تھیں۔

حضرت خدیجہؑ نے ہجرت سے تین سال پہلے 65 سال کی عمر میں مکہ میں وفات پائی۔ پیغمبر اکرمؐ نے آپ کو قبرستان معلاۃ میں سپرد خاک فرمایا۔

■ سوانح حیات
حضرت خدیجہؑ، خویلد بن اسد بن عبدالعزی بن قصی القرشیہ الاسدیہ[1] اور فاطمہ بنت زائدہ[2] کی بیٹی تھیں۔ آپ بعثت سے تیس یا چالیس سال پہلے مکہ میں پیدا ہوئیں اور اسی شہر میں اپنے والد کے گھر پر پرورش پائی۔[3]

تاریخی مآخذ میں اسلام سے پہلے حضرت خدیجہ کے بارے میں کوئی دقیق معلومات میسر نہیں صرف اتنا ملتا ہے کہ آپ ایک مالدار خاتون تھیں، تجارت کرتی تھیں اور اپنے سرمایہ کو مضاربہ اور تجارت کے لئے لوگوں کو استخدام کرنے میں صرف کرتی تھیں۔[4]

آپ کے مقام و منزلت اور حسب و نسب کے بارے بلاذری نے واقدی سے یوں نقل کیا ہے: خدیجہؑ بنت خویلد اعلی حسب و نسب کی مالکہ اور ایک دولت مند تاجر خاتون تھیں۔[5]

■ پیغمبر اکرمؐ سے شادی
پیغمبر اسلامؐ فرماتے ہیں خدا نے خدیجہ سے بہتر کوئی عورت مجھے نہیں دی۔ جب لوگ مجھے جھوٹا کہتے تھے، تو وہ میری سچائی کی گواہی دیتی اور جب لوگوں نے مجھ پر پابندیاں لگائیں تو اس نے اپنی دولت کے ذریعے میری مدد کی۔ اور خدا نے اس سے مجھے ایسی اولاد عطا کی جو دوسری زوجات سے عطا نہیں کی۔
شیخ مفید، الافصاح، ۱۴۱۴ق، ص۲۱۷۔

تمام تاریخی مآخذ حضرت خدیجہ کو پیغمبر اکرمؐ کی پہلی زوجہ مانتے ہیں۔ حضرت خدیجہ سے شادی کے وقت حضرت محمدؐ کی عمر 21 سے 37 سال کے درمیان ذکر کی گئی ہے۔[6] لیکن جو چیز تمام مورخین کے یہاں قابل اعتماد ہے وہ 25 سال ہے۔[7] چنانچہ مآخذ میں آیا ہے کہ جب حضرت خدیجہؑ حضرت محمدؐ کے نیک سلوک، اچھے گفتار، اعلی اخلاقی اقدار اور امانت داری سے متاثر ہوئیں تو انہوں نے پبغمبر اکرمؐ کو اپنے تجارتی سامان پر امین مقرر کرکے تجارت کے لئے شام روانہ کیا اور اس سفر سے واپسی پر جب میسرہ نامی اپنے غلام کی زبانی پیغمبر اکرمؐ کے منفرد خصوصیات سے آشنا ہوئیں تو انہوں نے حضرت محمدؐ سے شادی کی خواہش ظاہر کی۔[8] بعض مورخین اس بات کے معتقد ہیں کہ حضرت خدیجہ نے پیغمبر اکرمؐ کی صداقت، امانت‌، حسن خلق اور نیک سلوک سے متاثر ہو کر آپ سے شادی کی خواہش ظاہر کی۔[9] ابن اثیر نے بھی کتاب اسد الغابہ میں انہیں عوامل کو بیان کیا ہے۔[10] اہل سنت کے اکثر تاریخی مآخذ میں پیغمبر اکرمؐ کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے سے پہلے حضرت خدیجہ (س) کے شوہر دار اور بچہ دار ہونے کا ادعا ملتا ہے؛[حوالہ درکار]

ابن شہر آشوب کے مطابق سید مرتضی اپنی کتاب شافی اور شیخ طوسی اپنی کتاب التلخیص میں پیغمبر اکرمؐ کے ساتھ شادی کے موقع پر حضرت خدیجہ کے باکرہ ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔[11] اور جن اولاد کی نسبت حضرت خدیجہ کی طرف دی جاتی ہے حقیقت میں وہ ان کی بہن ہالہ کی تھیں جن کی وفات کے بعد ان کے بچے حضرت خدیجہ کی زیر سرپرستی پلی بڑی ہیں۔[12]

■ شادی کے وقت آپ کی عمر
پیغمبر اکرمؐ کے ساتھ شادی کے وقت حضرت خدیجہؑ کی عمر کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے اس بنا پر اس وقت آپ کی عمر 25 سے 46 سال تک بتائی گئی ہیں۔ اکثر مورخین نے پیغمبر اکرمؐ کے ساتھ شادی کے وقت آپ کی عمر 40 سال بتائی ہے۔[13] جبکہ بعض مصادر کے مطابق آپ کی عمر 25 سال تھی۔[14]

■ پیغمبر اکرمؐ سے آپ کی اولاد
ابراہیم کے علاوہ پیغمبر اکرمؐ کی تمام اولاد حضرت خدیجہ سے تھی۔[15] مورخین کے مطابق حضرت فاطمہ(س) پیغمبر اکرمؐ کی اکلوتی بیٹی تھی جبکہ زینب، رقیہ اور ام کلثوم حضرت خدیجہ اور پیغمبر اکرمؐ کی ربیبہ تھیں۔[16]

■ اسلام لانا
مورخین کے مطابق اس بات پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے کہ حضرت خدیجہ پیغمبر اسلام پر ایمان لانے والی پہلی شخصیت تھیں۔[17]

اسی طرح اسلام میں السّابقون کے مصادیق کی تعیین میں بعض مآخذ حضرت خدیجہ (س) اور حضرت علیؑ کو پیغمبر اکرمؐ پر ایمان لانے والے پہلے اشخاص قرار دیتے ہیں۔[18] اسی طرح ان مآخذ میں سب سے پہلے نماز قائم کرنے والوں میں بھی حضرت علیؑ کے ساتھ حضرت خدیجہ کا نام لیتے ہیں۔[19]

■ اسلام میں آپ کا کردار
حضرت خدیجہؑ کی مالی امداد کی بدولت رسول خداؐ تقریبا غنی اور بے نیاز ہو گئے۔ خداوند متعال آپؐ کو اپنی عطا کردہ نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: وَوَجَدَكَ عَائِلاً فَأَغْنَى(ترجمہ: اور (خدا نے) آپ کو تہی دست پایا تو مالدار بنایا)[20] رسول خداؐ خود بھی فرمایا کرتے تھے: ما نَفَعَنِي مالٌ قَطُّ ما نَفَعَني (أَو مِثلَ ما نَفَعَني) مالُ خَديجة (ترجمہ: کسی مال نے مجھے اتنا فائدہ نہیں پہنچایا جتنا فائدہ مجھے خدیجہؑ کی دولت نے پہنچایا۔)[21] رسول خداؐ نے خدیجہؑ کی ثروت سے مقروضوں کے قرض ادا کئے؛ یتیموں، تہی دستوں اور بے نواؤں کے مسائل حل کئے۔

شعب ابیطالبؑ کے محاصرے کے دوران حضرت خدیجہؑ کی دولت بنی ہاشم [اور بنی المطلب] کی امداد میں صرف ہوئی۔ یہاں تک کہ احادیث میں آیا ہے کہ: أنفق أبو طالب وخديجة جميع مالہما" (ترجمہ: ابوطالبؑ اور خدیجہؑ نے اپنا پورا مال (اسلام اور قلعہ بند افراد کی راہ میں) خرچ کیا۔)[22] شعب ابیطالبؑ میں محاصرے کے دوران حضرت خدیجہؑ کا بھتیجا حکیم بن حزام گندم اور کھجوروں سے لدے ہوئے اونٹ لایا کرتا تھا اور بے شمار خطرات اور زحمت و مشقت سے بنی ہاشم کو پہنچا دیتا تھا۔[23]

یہ بخشش اس قدر قابل قدر اور خالصانہ تھی کہ خداوند عالم نے اس کی قدر دانی کرتے ہوئے اس نیک کام کو اپنی طرف سے اپنے حبیب حضرت محمدؐ کو عطا کردہ نعمات میں شمار فرمایا۔[24] پیغمبر اکرمؐ بھی اس عظیم المرتبت خاتون کی بخشندگی اور ایثار کو ہمیشہ یاد فرماتے تھے۔[25]

■ مقام و مرتبت
حضرت خدیجہ باعظمت، مالدار اور اپنے زمانے کی مؤثر خواتین میں سے تھیں۔[26] جابر بن عبداللہ انصاری پیغمبر اکرمؐ سے منقول ایک حدیث میں حضرت خدیجہ(س)، حضرت فاطمہ(س)، مریم اور آسیہ کو عالمین کے عورتوں کی سرادار قرار دیتے ہیں۔[27] اسی طرح پیغمبر اکرمؐ حضرت خدیجہ(س) کو دنیا کی باکمال[28] اور بہترین خاتون قرار دیتے ہیں۔[29] اسلامی مآخذ میں حضرت خدیجہ کو طاہرہ، زکیہ، مرضیہ، صدیقہ، سیدہ نساء قریش[30]، خیرالنساء[31] اور باعظمت خاتون[32] کے القاب اور ام المؤمنین کی کنیت سے یاد کرتے ہیں۔[33]

متعدد روایات میں پیغمبر اکرمؐ کے نزدیک حضرت خدیجہ کے خاص مقام و منزلت کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ مآخذ میں آیا ہے کہ حضرت خدیجہ(س) پیغمبر اکرم کے لئے بہترین اور صادق ترین وزیر اور مشاور کی حیثیت رکھتی تھیں نیز آپ حضورؐ کے لئے سکون دل کا باعث بھی تھیں۔[34] پیغمبر اکرمؐ آپ کے وصال کے سالوں بعد بھی آپ کو یاد فرماتے ہوئے آپ کو بے نظیر اور بے مثال خاتون قرار دیتے تھے۔ جب حضرت عایشہ نے پیغمبر اکرمؐ سے کہا کہ خدیجہ آپ کے لئے ایک بوڑھی زوجہ سے زیادہ کچھ نہیں تھی، تو پیغمبر اکرمؐ بہت ناراض ہو گئے اور اس بات کے جواب میں فرمایا: "خدا نے میرے لئے خدیجہ سے بہتر کوئی زوجہ عطا نہیں فرمائی، اس نے اس وقت میری تصدیق کی جب میری تصدیق کرنے والا کوئی نہیں تھا، اس نے اس وقت میری مدد کی جب میری مدد کو کوئی حاضر نہیں تھا اور اس وقت اپنی دولت کا مکمل اختیار مجھے دے دیا جب دوسرے مجھے اپنی دولت سے دور رکھے جا رہے تھے۔"[35]

بعض معتقد ہیں کہ حضرت خدیجہ کی مادی اور دنیاوی دولت سے زیادہ ان کی معنوی ثروت اہمیت کی حامل تھی۔ انہوں نے قریش کے بزرگان اور اشراف کی طرف سے دی گئی شادی کی پیشکش کو ٹھکرانے اور پیغمبر اکرمؐ کو اپنے شوہر کے طور پر انتخاب کرنے کے ذریعے مادی اور دنیوی مال دولت پر اخروی سعادت اور بہشت کی ابدی نعمات سے بہرہ مند ہونے کو ترجیح دے کر اپنی عقلمندی اور دور اندیشی کا ثبوت دیا۔ انہوں نے ان نعمتوں سے بہرہ مند ہونے کے لئے سب سے پہلے پیغمبر اکرمؐ کی تصدیق کی اور ان کی معیت میں نماز قائم کر کے اولین مسلمان ہونے کا اعزاز بھی اپنے نام کر لیا۔

■ وفات
اکثر تاریخی مآخذ میں حضرت خدیجہؑ کی تاریخ وفات کو بعثت کا دسواں سال (یعنی ہجرت مدینہ سے 3 سال پہلے) قرار دیا ہے۔[36] ابن عبدالبر کا کہنا ہے کہ خدیجہؑ کی عمر بوقت وفات 64 سال چھ ماہ تھی۔[37] ابن سعد کا کہنا ہے کہ حضرت خدیجہؑ ابوطالبؑ کی رحلت کے 35 دن بعد رحلت کر گئیں۔[38] وہ اور بعض دوسرے مؤرخین نے کہا ہے کہ آپ کی وفات کی صحیح تاریخ رمضان سنہ 10 بعثت ہے۔[39] پیغمبر اکرمؐ کے چچا ابوطالب بھی اسی سال رحلت کر گئے تھے لہذا پیغمبر اکرمؐ نے اس سال کو عام الحزن کا نام دیا۔[40]

■ آرامگاہ
اسلامی احادیث کے مطابق رسول اللہؐ نے آپ کو اپنی ردا اور پھر جنتی ردا میں کفن دیا اور مکہ کے بالائی حصے میں واقع پہاڑی (کوہ حجون) کے دامن میں، مقبرہ معلیٰ (جنت المعلی) میں سپرد خاک کیا۔[41]

موجودہ زمانے میں حضرت خدیجہ کے آرامگاہ پر ایک چھوٹی عمارت بنی ہوئی ہے اور حج پر مکہ جانے والے حجاج اس کی زیارت سے مشرف ہوتے ہیں۔

کاوش:مولانا سید محمد تقی نقوی قمی ۔ 

منجانب:مدرسہ و موسسہ علمیہ باب الحوائج ایران و پاکستان ۔ 

00989109987105/ 

Tnaqvi565@gmail.com .

📚حوالہ جات

1۔ ابن اثیر جزری، أسدالغابہ فی معرفۃ الصحابہ، ج۶، ص۷۸.
2۔ الاستيعاب، ج‏۴، ص۱۷-۱۸
3۔ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۸، ص۱۱، شمارہ ۴۰۹۶.
4۔ ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ج۲، ص۲۹۳؛ ابن سید الناس، عیون الاثر، ج۱، ص۶۳.
5۔ بلاذری، الانساب الاشراف، ج۱، ص۹۸.
6۔ ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ۱۴۰۷ق، ج‏۵، ص۲۹۳۔
7۔ ابن شہرآشوب، المناقب آل ابی طالب، ۱۳۷۶ق، ج۱، ص۱۴۹؛ یعقوبی، تاریخ یعقوبی، بیروت، ج۲، ص۲۰؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک، ، ۱۳۸۷ق، ج۲ ، ص۲۸۰۔
8۔ ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۲۹۳۔
9۔ ابن سیدالناس، عیون الاثر، ۱۴۱۴ق، ج۱، ص۶۳۔
10۔ ابن اثیر جزری، اسد الغابہ، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۲۳۔
11۔ ابن شہرآشوب، المناقب آل ابی طالب، قم، ج۱، ص۱۵۹: «روی أحمد البلاذری و أبوالقاسم الکوفی فی کتابیہما و المرتضی فی الشافی و أبو جعفر فی التلخیص: أن النبی (ص) تزوج بہا و کانت عذراء»۔
12۔ عاملی، الصحیح، ۱۴۱۵ق، ج۲، ص۱۲۵۔
13۔ ابن اثیر، الکامل، ج۲، ص۳۹؛ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۸ ،ص۱۷۴؛ ابن اثیر جزری، اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ، ج۱، ص۲۳؛ بلاذری، انساب الاشراف، ج۱،ص۹۸ و ج۹ ،ص۴۵۹ ؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک ، ج۲ ،ص۲۸۰۔
14۔ بیہقی، دلائل النبوۃ، ج۲، ص۷۱؛ السیرۃ الحلبیہ، ج۱، ص۱۴۰؛ البدایۃ و النہایۃ، ج۲، ص۲۹۴: «‌وکان عمرہا إذ ذاک خمسا و ثلاثین و قیل خمسا و عشرین سنہ»؛ بلاذری انساب الاشراف، ج۱، ص۹۸۔
15۔ ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۱۰ق، ج۸ ، ص۱۷۴؛ ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۲۹۴۔
16۔ عاملی، الصحیح، ۱۴۱۵ق، ج ۲، صص ۲۰۷-۲۲۰۔
17۔ ابن‌اثیر، الكامل، ۱۳۸۵ق، ج۲، ص۵۷.
18۔ مقریزی، امتاع الاسماء، ۱۴۲۰ق، ج۹، ص۸۸ .
19۔ ابن اثیر جزری، أسد الغابہ، ۱۴۰۹ق، ج‏۶، ص۷۸؛ ابن عبد البر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج۳، ص۱۰۸۹
20۔ سورہ ضحی (93) آیت 8۔
21۔ مجلسی، بحار الانوار، ج19، ص 63۔
22۔ مجلسی، بحارالانوار، ج19، ص 16۔
23۔ ابن ہشام، سیرۃ النبی، ترجمہ: رسولی محلاتی، ج1، ص 221۔
24۔ مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۳۵، ص۴۲۵؛ ابن شہرآشوب، مناقب آل ابی طالب، قم، ج۳، ص۳۲۰۔
25۔ ابن عبد البر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج‏۴، ص۱۸۱۷۔
26۔ طبری، تاریخ الامم و الملوک، ۱۳۸۷ق، ج۲، ص۲۸۱۔
27۔ ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ، ۱۴۰۷ق، ج‏۲، ص۱۲۹۔
28۔ ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ، ۱۴۰۷ق، ج‏۲، ص۱۲۹۔
29۔ مقریزی، إمتاع‏ الأسماع، ۱۴۲۰ق، ج‏۱۵، ص۶۰۔
30۔ ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ۱۴۰۷ق، ج۳، ص۱۵۔( ابن کثیر وحی کے ابتدائی ایام میں حضرت خدیجہ(س) کے ان القابات کی طرف اشارہ کرتے ہیں)؛ بیہقی، دلائل النبوۃ، ۱۴۰۵ق، مقدمہ کتاب، ص۱۶۔
31۔ ابن اثیر جزری، أسد الغابہ، ۱۴۰۹ق، ج‏۶، ص۸۳۔
32۔ مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۱۰۰، ص۱۸۹۔
33۔ السیلاوی، الأنوار الساطعۃ، ۱۴۲۴ق، ص۲۴۔
34۔ ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۶۱ ؛ ابن اثیر جزری، أسد الغابہ، ۱۴۰۹ق، ج‏۱، ص۲۶۔
35۔ ابن عبدالبر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج۴، ص۱۸۲۴۔
36۔ مسعودی، مروج‏ الذہب، ج2، ص 282؛ ابن سیدالناس، عیون الاثر، ج1، ص 151؛ ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج4، ص1817؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج11، ص 493؛ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج8 ، ص 14۔
37۔ ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج4، ص 1818۔
38۔ ابن سعد، الطبقات‏ الكبرى، ج‏1، ص96۔
39۔ ابن سعد، الطبقات‏ الكبرى، ج 8 ، ص14۔
40۔ مقریزی، امتاع الاسماع، ۱۴۲۰ق، ج۱، ص۴۵.
41۔ ابو الحسن بکری، الانوار الساطعہ من الغرّاء الطاہرۃ، ص735۔
بی ‏بی ‏سیدہ ‏خدیجہ ‏سلام ‏اللہ ‏علیھا ‏کا ‏مختصر ‏تعارف ‏???????۔ ‏ بی  ‏بی ‏سیدہ ‏خدیجہ ‏سلام ‏اللہ ‏علیھا ‏کا ‏مختصر ‏تعارف  ‏???????۔ ‏ Reviewed by MOULANA SYED MUHMMAD TAQI NAQVI QUMI on September 13, 2024 Rating: 5

No comments:

Don't comment spam.

Powered by Blogger.