banner image

عقیقہ ‏کے ‏احکام ‏

بسمہ تعالی ۔ 

F۔H۔B

السلام علیکم ۔ 

عقیقہ کیاہے ؟ 

 اولاد (بیٹا اور بیٹی) کا عقیقہ کرنا مستحب ہے ، اور مستحب ہے کہ ولادت کے ساتویں دن عقیقہ کیا جاۓ اورکسی وجہ یا بغیر کسی وجہ کے تاخیر کرنے سے عقیقہ ساقط نہیں ہوتا، بلکہ اگر اسکا عقیقہ نہ ہو اور وہ بالغ ہو جاۓ تو اپنی طرف سے خود عقیقہ کرے، اور خود اپنی زندگی میں اپنا عقیقہ نہ کرے تو اس کی موت کے بعد اس کا عقیقہ کر سکتے ہیں، اور ضروری ہے کہ عقیقہ اونٹ یا گاۓ یا دنبے یا بکرے کا ہو، اور یہ کافی نہیں ہوگا کہ اس کی طرف سے قیمت ادا کی جاۓ لیکن اس کی طرف سے قربانی ہو سکتی ہے۔
اور مستحب ہے کہ عقیقہ کا جانور موٹا تازہ ہو اور بعض روایات میں آیا ہے کہ (جانور موٹا اور فربہ ہو)، اور جو شر‍طیں قربانی کے جانور کے لیے ہیں وہ عقیقہ کے لیے ضروری نہیں ہیں۔
سزاوار(بہتر ) ہے کہ عقیقہ کا گوشت بغیر ہڈی ٹوٹے ہوے کاٹا جاۓ،اور مستحب ہے کہ عقیقہ کا ۱/۴ گوشت دایا کو دیا جاۓ جس میں جانور کی ران اور پیر شامل ہو۔ اور چاہیں تو عقیقہ کا گوشت پکا کر یا کچا تقسیم کریں، اور یہ بھی جایز ہے کہ پکایا جاے اور مومنین کو دعوت دی جاے، اور بہتر ہے کہ دس افراد یا اس سے زیادہ اس میں سے کھائیں اور بچے کے لیے دعا کریں اور مکروہ ہے کہ باپ یا جو اس کی کفالت میں ہوں اس میں سے کھائیں، بلکہ احتیاط مستحب ہے کہ ماں اس میں سے نہ کھا‎ۓ،اور ایک عقیقہ فقط ایک (انسان ) کا شمار ہو گا۔

 کیا عورت گھر کے اخراجات میں سے اپنا عقیقہ کر سکتی ہے؟

اگر شوہر راضی ہے تو ایسا کر سکتی ہے۔

 پاب کس طرح سے بچے کے لیے بکرے کا عقیقہ کر سکتا ہے؟

 بکرے کو صرف عقیقہ کی نیت سے قربانی کے لیے ذبح کر دینا کافی ہے۔

 کیا بچے کے عقیقے کا گوشت اس کے والدین کھا سکتے ہیں؟

باپ اور جو افراد اس کے نان خوار ہیں ان کے لیے عقیقہ کا گو‎‎شت کا کھانا مکروہ ہے مخصوصا احتیاط مستحب ہے کہ بچے کی ماں اس گوشت سے نہ کھاۓ۔

کیا عقیقہ واجب ہے؟
عقیقہ مستحب ہے، بجا لانے کی تاکید ہے۔

کاوش: مولانا سید محمد تقی نقوی قمی ۔ 

منجانب: مدرسہ و موسسہ علمیہ باب الحوائج فاونڈیشن ایران و پاکستان ۔ 

00989109987105 . 
عقیقہ ‏کے ‏احکام ‏ عقیقہ ‏کے ‏احکام ‏ Reviewed by MOULANA SYED MUHMMAD TAQI NAQVI QUMI on September 13, 2024 Rating: 5

No comments:

Don't comment spam.

Powered by Blogger.