banner image

قربانی ‏کیا ‏ہے ‏اور ‏اسرار ‏قربانی * ‏ *

💠💠💠💠💠💠💠💠💠💠

                عید الاضحی تهنیت باد


                     *قربانی کے اسرار* 

 *کاوش*:
* باب الحوائج فاونڈیشن *
                        
 *اشارہ* 
منی میں حج تمتع انجام دینے والوں کے رمی جمرات کے بعد واجب عمل  قربانی کرنا ہے، حاجی پر لازم ہے کہ اونٹ، گائیں اور گوسفند میں سے کوئی ایک اپنی شرائط کے ساتھ خدا کی رضا کے لیے قربانی کریں۔ 
فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ اِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْىِ  
حاجی رمی کے بعد یعنی شیطان اور اس کی چاہتوں سے بےزاری کے اعلان کے بعد خدا کے حضور شکرانے کے طور پر اپنا کچھ مال راہ خدا میں قربانی کے شکل میں خرچ کرے گا۔  

  *تاریخ قربانی* 
قربانی کی تاریخ حضرت آدم(علیه‌السّلام) کے زمانے سے شروع ہوئی۔ سب سے پہلے ہابیل اور قابیل کی قربانی کے متعلق قرآن مجید میں تذکرہ ملتا ہے چنانچہ ارشاد پروردگار عالم ہے: «
. وَاتْلُ عَلَيْـهِـمْ نَبَاَ ابْنَىْ اٰدَمَ بِالْحَقِّۘ اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِهِمَا  
اہل کتاب کو آدم کے دو بیٹوں کا قصہ صحیح طور پر پڑھ کر سنا دے، جب ان دونوں نے قربانی کی ان میں سے ایک کی قربانی قبول ہو گئی
[1] »
دوسری قربانی کا تذکرہ حضرت نوح کے بارے میں ملتا ہے طوفان کے بعد کشتی میں موجود حیوانات میں سے قربانی پیش کی۔
پھر حضرت ابراهیم (علیه‌السّلام) خدا کے حکم سے اپنے لخت جگر کو قربانی کے لیے قربان گاہ تک لے گئے: قَالَ يَا بُنَىَّ اِنِّـىٓ اَرٰى فِى الْمَنَامِ اَنِّـىٓ اَذْبَحُكَ َ
 کہا اے بیٹے! بے شک میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں (2] [3]
پہر ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی  صل اللہ علیہ و الہ و سلم نے ایک سو اونٹوں کی قربانی پیش کی 66 اونٹ اپنی طرف سے اور 34 اونٹ حضرت علی (علیه‌السّلام) کی طرف سے قربانی دی۔  [4]

 *اسرار قربانی* 

قربانی کے اسرار و رموز ہیں ان میں سے کچھ کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
 🔹  *تقوا اور پرہیزگاری* 

«قربانی» کا مطلب یہ ہے کہ ہر وہ کام یا عمل جس سے انسان،  خدا کے قریب ہوجائے اور دہم ذی الحجہ کی قربانی خدا کے نزدیک ہونے کا سبب بنتی ہے اور یہ تقوا اور پرہیزگاری  کی نشانی ہوتی ہے.
وَاتْلُ عَلَيْـهِـمْ نَبَاَ ابْنَىْ اٰدَمَ بِالْحَقِّۘ اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِهِمَا  (27)
اہل کتاب کو آدم کے دو بیٹوں کا قصہ صحیح طور پر پڑھ کر سنا دے، جب ان دونوں نے قربانی کی ان میں سے ایک کی قربانی قبول ہو گئی
حدیث میں آیا ہے کہ: خدا کو  قربانی (خون بہانا ) بہت پسند ہے۔ «إِنَّ الله عَزَّ وَجَلَّ یُحِبُّ إِطْعَامَ الطَّعَامِ وَ إِرَاقَةَ الدِّمَاءِ [۷] لہٰذا جو شخص اپنے پروردگار کی چاہتوں پر عمل پیرا ہوتا ہے اور اس کے دستورات پر عمل کرتا ہے۔ تو خدا کا مقرب بندے بن جاتا ہیں البته خدا کو  گوشت کی ضرورت نہیں ہوتی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ انسان تقوا اور پرہیزگاری کے راستے پر چلنے سے ایک کامل انسان بن جاتا ہے اور جتنا اس راستے میں آگے بڑھتا جاتا ہے خدا سے نزدیک سے نزدیک تر ہو جائے گا۔
 کیا خوبصورت کہا ملامحسن فیض کاشانی نے: « قربانی،  تقرب  حق تعالی کا ذریعہ ہے جو اطاعت سے میسر ہوگا (پس)  قربانی کو  کامل طریقے سے انجام دینی چاہیے ». [۸]
در منای قرب، یاران جان اگر قربان کنند
 جز به تیغ مهر او در پیش او بسمل مباش (سنایی)
 قربانی سے پروردگار، انسانوں کے تقوی اور پرہیزگاری کو آزمانا چاہتا وگرنہ خدا کو گوشت اور خون بہانے کی ضرورت نہیں ہے: وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَكُمْ مِّنْ شَعَآئِرِ اللّـٰهِ 
اور ہم نے تمہارے لیے قربانی کے اونٹ کو اللہ کی نشانیوں میں سے بنایا ہے
لَنْ يَّنَالَ اللّـٰهَ لُحُوْمُهَا وَلَا دِمَآؤُهَا وَلٰكِنْ يَّنَالُـهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ ۚ 
اللہ کو نہ ان کا گوشت اور نہ ان کا خون پہنچتا ہے البتہ تمہاری پرہیزگاری اس کے ہاں پہنچتی ہے،
 اس آیت کی روشنی میں یہ کہا  سکتا ہے کہ جو کچھ خدا تک پہنچتا ہے وہ روح اور حقیقت عمل ( تقوا ) ہے لہذا اس سے پتہ چلتا ہے کہ قربانی  اس وقت مقبول ہوگا جب تقوا کے ساتھ انجام پائے  جائے اور تقوا کے بغیر اللہ کوئی عمل قبول نہیں کرتا ہے اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّـٰهُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ 
 اللہ پرہیزگاروں ہی سے قبول کرتا ہے۔ [۹]
🔹  *ایثار اور تسلیم کی تجلی*  

«قربانی»، رمز ایثار اور فداکاری ہے  اور جو کچھ ہے معبود  کی راہ قربان کرنا ہے  اور جانی، مالی اور روحانی طور پر فداکاری کرنا ہے 
 ابراهیم‌ جیسا بننے کے لیے خدا کی بارگاہ میں  اولاد، مقام، منزلت ، حیثیت ، آبرو، پیسے اور جاہ و حشم سے گزرنا ہوگا اور اپنی انا اور حیثیت کے قربانی کے بعد ہی رضا پروردگار حاصل کر سکے گا انسان کے قربانی کا مطلب یہ ہوتا ہے خدا کی راہ میں ہر چیز کی قربانی پیش کرنے کے لیے آمادہ اور تیار ہے اور اس راہ میں کوئی چیز  رکاوٹ بنے تو دل ہی دل میں کہتا ہے : ‌ «
اِنِّـىْ وَجَّهْتُ وَجْهِىَ لِلَّـذِىْ فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ حَنِيْفًا ۖ وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ 
سب سے یکسو ہو کر میں نے اپنے منہ کو اسی کی طرف متوجہ کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو بنایا، اور میں شرک کرنے والوں سے نہیں ہوں
قُلْ اِنَّ صَلَاتِىْ وَنُسُكِىْ وَمَحْيَاىَ وَمَمَاتِىْ لِلّـٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ 
کہہ دو کہ بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا اللہ ہی کے لیے ہے جو سارے جہان کا پالنے والا ہے ».
اسی اہمیت کے پیش نظر چنانچہ ہم دیکھتے ہیں۔ اللہ کے تمام برجستہ پیامبران  فرمان اور دستور  خدا کو  دل و جان سے قبول کرتے تهے اور خدا کے حضور ہمیشہ  خاشع و خاضع نظر آتے ہیں .جیسا کہ  قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے : «اے  ایمان والو !  شعائر خدا کی حدوں کو نابود نہ کریں قربانی والے حیوانات  کے ساتھ تعرض نہ کریں؛ (اسی طرح )  زائرین بیت اللہ کو نہ ستائیں ؛ کیونکہ ان کی قربانی لانے اور مکہ مکرمہ میں انے کا غرض اور مقصد خدا کی   رضا اور فضل کا طلب کرنا ہے » 
قرآنی آیتوں سے پتہ چلتا ہے کہ  قربانی،دلوں میں رضا اور تسلیم پیدا کرنے اور خدا کی خشنودی اور رضایت حاصل کرنے کے لیے ہوتی ہے 
  *تسلیم کی نشانیاں* 
 چند چیزیں اہل تسلیم کی نشانی ہوتی ہے :
1 خدا کی عظمت کے مقابلے، دل میں  خوف اور  ترس ایجاد ہوں
2  سختی اور مشکلات میں صابر ہوں
3 خدا کی دی ہوئی نعمتوں کو ان کے راہ میں خرچ کریں 
  پہر کبھی غیر اللہ کے سامنے تسلیم نہ ہوں 

 🔹  *خدا کی شکر گزاری* 

 قربانی کے اسرار میں سے ایک یہ ہے کہ حج کرنے والے اپنی قربانی سے اپنے پروردگار کا شکر بجا لارہے ہونگے :
¤ الله کی دی ہوئی تمام نعمتوں پر ¤ سفر حج کی توفیق پر
¤ خدا کی مہمانی کی سعادت دینے پر 
¤ اس راہ کے وسائل فراہم کرنے پر 
¤ اور اس روحانی مہمانی کی دعوت دینے پر
¤ منا میں حضور کی سعادت،
¤ رمی جمرات، شیطان پر سنگسار کرنے پر  
تیرا شکر ادا کرتے ہیں اور تیرے  حمد و ثنای قربانی کے تقدیم کے ساتھ کرتے ہیں .
قرآن کا بیان ہے :《 وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَكُمْ
اور ہم نے اونٹ کو تمہارے لیے قربانی قرار دیا ہے 
فَكُلُوْا مِنْـهَا وَاَطْعِمُوا الْقَانِــعَ وَالْمُعْتَـرَّ ۚ كَذٰلِكَ سَخَّرْنَاهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُـرُوْنَ 
 ان میں سے خود کھاؤ اور صبر سے بیٹھنے والے اور سائل کو بھی کھلاؤ، اللہ نے انہیں تمہارے لیے ایسا مسخر کر دیا ہے تاکہ تم شکر کرو 》
 یہ قربانی آپ کی ہدایت دینے اور حج کی توفیق دینے کی  شکرانے میں پیش کیا جاتا ہے [10]
اور سوره کوثر میں خدا نے اپنے محبوب رسول پیامبر اکرم (صلی‌الله‌علیه‌و‌آله‌وسلّم) کو «کوثر» دینے کے شکرانے میں رسول کریم کو حکم دیتا ہے کہ 
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ (2). پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجیے

🔹  *یاد بت شکن  حضرت ابراهیم (ع) و اسماعیل*(ع)

قربانی» 

 یادگار حضرت  ابراهیم علیه السلام ہے لہذا ممکن نہیں قربانی کی بات کریں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اور اپ کے نور نظر اسماعیل علیہ السلام کے  بارے میں بات نہ کی جائے خدا نے عالم رویاء میں  حضرت ابراهیم علیہ السلام کو حکم دیا  اپنے فرزندِ کو قربانی کریں  اور آپ نے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے اپنے نور نظر سے خواب کے بارے میں بتایا اور حضرت  اسماعیل قربانی کے لیے تیار ہوئے : ۚ قَالَ يَآ اَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ ۖ سَتَجِدُنِـىٓ اِنْ شَآءَ اللّـٰهُ مِنَ الصَّابِـرِيْنَ 
کہا اے ابا! جو حکم آپ کو ہوا ہے کر دیجیے، آپ مجھے ان شا اللہ صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔
 اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حکم کے تکمیل کرتے ہوئے چھڑی چلایا  لیکن پروردگار عالم کو منظور کچھ اور تھا چھڑی کام نہیں کیا خدا کے طرف وحی آئی: وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْـحٍ عَظِـيْمٍ  اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے عوض دی
آپ کا یہ مخلصانہ قربانی رہتی دنیا تک کے لیے نمونہ عمل بن گیا.اور پروردگار عالم نے قربانی کو حضرت ابراہیم اور اس کے بیٹے کے یاد میں اس کو ہمیشہ جاویداں رکھا 
 اس حقیقت کی طرف یوں اشاره ملتا ہے: «فعندما ذبحت هدیک نویت انک اتبعت سنة ابراهیم بذبح ولده و ثمرة فؤاده و ریحان قلبه و حاجة سنته لمن بعده و قربه الی الله تعالی لمن خلقه»؛ « کیا قربانی کرتے ہوئے کهبی سوچا ہے کہ ہم سنت اور سیرت ابراہیمی پر عمل پیرا ہیں        جس نے رضای پروردگار کے لیے  اپنے فرزند کو ذبح کرکے اس مقدس سنت کو اپنے بعد آنے والوں کے لیے  یادگار چھوڑے ہیں ». [11]
ما چو اسماعیل ز ابراهیم خود سر نپیچیم ار چه قربان می‌کند (مولوی)
حج کرنے والوں  سے بهی ابراهیم اور  اسماعیل(ع) کی طرح ان سے امتحان لیا جائے گا تاکہ اس کے تسلیم، اخلاص، ایمان، رضا و ایثار کس حد تک ہے پرکها جائے اور مالی فدا کاری سے حضرت ابراہیم کے پیروکار بن جائے .
ابوبصیر کہتا ہے: 

امام صادق(علیه‌السّلام) سے  عرض کیا: قربانی کی علت کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: « در حقیقت قربانی کا پہلا خون کا قطرہ زمین پر گرتا ہے،اس کے مالک کی مغفرت ہوجاتی ہے  (دوسرا) یہ کہ خدا  چاہتا ہے کہ اپنے  علم کو ظاہر کریں کہ  کوں لوگ پہنان میں اس سے ڈرتے ہیں. ارشاد پروردگار عالم ہے : لَنْ يَّنَالَ اللّـٰهَ لُحُوْمُهَا وَلَا دِمَآؤُهَا وَلٰكِنْ يَّنَالُـهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ ۚ (37)
اللہ کو نہ ان کا گوشت اور نہ ان کا خون پہنچتا ہے البتہ تمہاری پرہیزگاری اس کے ہاں پہنچتی ہے،
 پہر فرمایا :دیکھو کس طرح خدا نے ہابیل کی قربانی کو قبول کیا اور قربانی قابیل کو رد کیا ». [12] [13]

🔹  *تعظیم  شعائر الهی*

 قرآن مجید، قربانی «شعائر الله» سے تعبیر کرتا ہے اور تعظیم شعائر کو ایمان اور تقویٰ بیان کرتا ہے : وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَكُمْ مِّنْ شَعَآئِرِ اللّـٰهِ 
اور ہم نے تمہارے لیے قربانی کے اونٹ کو اللہ کی نشانیوں میں سے بنایا ہے [14]  ذٰلِكَ وَمَنْ يُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللّـٰهِ فَاِنَّـهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ (32)
بات یہی ہے اور جو شخص اللہ کے شعائر  کی تعظیم کرتا ہے سو یہ دل کی پرہیزگاری ہے.
 علامه طباطبایی فرماتے ہیں: کہ تمام  اعمال حج (احرام، طواف، نماز اور  قربانی شعائر اللہ ہے اور شعائر کے معنی کے بارے میں فرماتے ہیں : «و هی، العلامة و شعائر الله الاعلام التی الله تعالی لطاعة»[15]
شعائر کے معنی علامت اور نشانی کی ہے اور شعائر اللہ سے مراد اللہ کی بندگی کی نشانیاں ہیں 
امام صادق(علیه‌السّلام) سے منسوب روایت میں، قربانی کو  شعائر میں سے قرار دیا گیا ہے اور اس کی تعظیم کرنے کا حکم دیا گیا ہے: «اذا رمیت الجمرة فاشتر هدیک ان کان من البدن و البقر و عظم شعائر الله عز وجل». [16] [17].

🔹  *رحمت اور مغفرت الهی کا حصول* 

قربانی، انسان کو جہنم سے نجات اور پروردگار عالم کی بے کراں مغفرت کی قیمت ہے
حیوان سے گرنے والے ہر خون کا قطر، حاجی کے گناہوں کا کفارہ ہے 
حاجی کو چاہئے خانه خدا میں انجام دینے والے مختلف اعمال اور مناسک  _ خصوصا  قربانی _ سے مغفرت کے لیے جو راہ ہموار کیا ہے اس کو ہمیشہ کے لیے بچا کے رکھیں. امام علی(علیه‌السّلام)، پیامبر اکرم(صلی‌الله‌علیه‌و‌آله‌وسلّم) سے نقل کرتے ہیں: «قربانی کے پہلے خون کا قطره، حاجی کے تمام گناہوں کا کفاره ہے (کانت اول قطرة له کفارة لکل ذنب). [18] 
 امام صادق(علیه‌السّلام) فلسفه قربانی کے متعلق فرماتے ہیں: «انه یغفر لصاحبها عند اول قطرة تقطر من دمها الی الارض»؛ « قربانی کا جب پہلا خون کا قطره زمین پر گرتا ہے اس کے گناہوں کو بخش دیتا ہے». [19]
امام سجاد(علیه‌السّلام) فرماتے ہیں : «اذا ذبح الحاج کان فداه من النار»؛ « قربانی، آتش جہنم سے نجات کی قیمت ہے ». [20] مولا محسن فیض کاشانی کی نظر میں قربانی کرنے سے ، خدا کے مقرب ہونے کا سبب ہے لہذا قربانی کو کامل طریقے سے انجام دیں اور امید رکھنا چاہیے کہ پروردگار، حیوان کے ہر جز کے بدلے انسان کے ایک جز کو جہنم سے نجات دیتا ہے. [21]

🔹  *نیازمند اور غریب افراد پر توجہ*

قربانی کے فلسفے میں سے ایک غریب اور نادار افراد کو خیال رکھنا ہے اور قربانی کے گوشت سے ان کو حصہ دینا ہے 
   آیت‌الله جوادی آملی صاحب لکھتے ہیں کہ : ممکن ہے قربانی کے اسرار میں سے ایک فقیر اور غریبوں قربانی کے گوشت سے محروم نہیں رکھنا ہو لیکن  ہمارے زمانے میں اس کے لیے ایک خاص پالیسی کے تحت غریبوں تک گوشت پہچانے کی صحیح  بندو بست نہیں ہے.
رسول اکرم صل اللہ علیہ و الہ و سلم فلسفه قربانی کے متعلق فرماتے ہیں: «انما جعل الله هذا الاضحی لتشبع مساکینهم من اللحم فاطعموهم»؛ « پروردگار عالم نے قربانی کرنے کو اس لیے واجب قرار دیا ہے کہ غریب اور مسکین حضرات اس گوشت‌ سے  استفادہ کریں اور پیٹ بھریں؛ لہذا ان کو ضرور گوشت دیں». دوسری حدیث میں امام صادق(علیه‌السّلام) آپ سے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں : « قربانی، واجب کرنے کا فلسفہ اور راز یہ ہے کہ غریبوں کی اقتصادی مشکلات سے نکلنے کا کوئی راستہ نکل آجائیں». [22]
قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے : فکلوا منها و اطعموا القانع و المعتر کذلک سخرناها لکم لعلکم تشکرون. [23]  اس لیے  امام علیه‌السّلام ایک روایت میں فرماتے ہیں  خدا، قربانی کرنے کو پسند کرتا ہے «إِنَّ الله عَزَّ وَجَلَّ یُحِبُّ إِطْعَامَ الطَّعَامِ وَ إِرَاقَةَ الدِّمَاءِ » [24]
جب مومن لوگ حیوانوں کو خدا کے نام پر قربانی کرتے ہیں اور اسی کے نام سے کھاتے ہیں اور اس خدا کے حکم سے گوشت کا کچھ حصہ رشتہ داروں میں اور کچھ حصہ محتاجوں میں بانٹ لیتا ہے درحقیقت وہ اپنے اور اپنے دوستوں اور محتاجوں کے دل میں خدا کی محبت بهر دیتا ہے  

 امام سجاد(علیه‌السّلام) اور امام باقر(علیه‌السّلام) 

اپنی اپنی قربانی سے ایک حصہ اپنے  ہمسایوں کو اور ایک حصہ غریبوں میں بانٹتے تھے اور  ایک حصہ اپنے گھر کے بچوں رکھتے تھے . [25]

*حوالہ جات :*

1. مائده، آیه۳۰ ۲۷.    
2. صافات آیه۱۰۲ ۱۰۷.
3. صادقی اردستانی، احمد، از میقات تا میعاد،
     ص۶۴۰- ۶۳۳.
4. شیخ حر عاملی، وسائل الشیعه، ج۱۰، ص۱۰۱.     
5. مائده  آیه۲۷.    
6. شیخ حر عاملی، وسائل الشیعه، ج۱6، ص۴۴۰.    
7 کارگر، رحیم، حج عارفان، ص۱۵۸.
8. جوادی آملی، عبدالله، جرعه‌ای از صهبای حج، 

9. درویش، عبدالله، از میقات تا عرفات، ص۱۳۰_ ۱۳۱.
10. نوری طبرسی، میرزاحسین، مستدرک الوسائل، ج۱۰، ص۱۷۱.    
11. فالی، حسین، حج در کلام قرآن وعترت، ص۱۹۵_ ۱۹۶.
12. مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار، ج۹۹، ص۲۹۶، ح۱۷.    
13. حج، آیه۳۶.    
14. طباطبایی، محمدحسین، المیزان، ج۱۴، ص۳۷۳.    
15. شیخ حر عاملی، وسائل الشیعه، ابواب ذبح.    
16. قربانی در کشتارگاه‌های فعلی منا، ص۳۲.
17. مغربی، قاضی نعمان، دعائم الاسلام، ج۱، ص۱۸۴.    
18. برقی، احمد بن محمد، المحاسن، ص۶۷.    
19. کارگر، رحیم، حج عارفان، ص۱۵۸.
20. کارگر، رحیم، حج عارفان، ص۱۵۸.
21. شیخ صدوق، محمد بن علی، علل الشرایع، ج۲، ص۴۳۷.    
22. حج، آیه۳۶.    
23. شیخ حر عاملی، وسائل الشیعه، ج۱۶، ص۴۴۰.    
24. شیخ حر عاملی، وسائل الشیعه، ج۱۶، ص۳۷۴، باب ۴، ح ۱۲.

00989109987105.
==== *پیشکش*

 *مدرسہ وموسسہ علمیہ باب الحوائج فاونڈیشن ایران وپاکستان ۔ 

tnaqvi565@gmail.com
قربانی ‏کیا ‏ہے ‏اور ‏اسرار ‏قربانی * ‏ * قربانی ‏کیا ‏ہے ‏اور ‏اسرار ‏قربانی * ‏ * Reviewed by MOULANA SYED MUHMMAD TAQI NAQVI QUMI on September 13, 2024 Rating: 5

No comments:

Don't comment spam.

Powered by Blogger.