شریعت میں مور کے مکمل احکمات فرامین معصومین کی روشنی میں و مجتہدین کی نظر و تفصیلی بحث علمی ۔
بسمہ تعالی ۔
السلام علیکم ۔
موضوع: بحث مور شرعیت کی نظر میں ؟
سوال: معصو مین علیہم السلام کے فرامین ہیں کہ مور کا کھانا حرام ہے
جب کہ سید سیستانی صاحب مور کو حلال کہتے ہیں؟
جیسا کہ من لایحضرہ الفقیہ میں شیخ صدوق علیہ الرحمہ کی روایت ہے:امام علیہ السلام نے فرمایا :مسوخات میں سے کسی چیز کا کھانا جائز نہیں ہے اور مسوخات میں میں مور بھی شامل ہے۔((منلايحضرهالفقيه ج : 3 ص : 335))
جواب:دو حصوں پر مشتمل ہے ، ایک مختصر جواب اور دوسرا تفصیلی جواب ہے ۔
مختصر جواب:
٭مور کو حرام قرار دینے والی ٹوٹل ہمارے پاس تین روایات ہیں ، دو روایات بکر بن صالح کی ہیں اور بکر بن صالح عجیب و غریب قسم کی روایت کرنے والا انسان ہے اور ایک ضعیف شخص ہے جیسا کہ اس کی یہ بھی روایت ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ پاؤں کا اوپر اور نیچے دونوں طرف سے مسح کرو ، جبکہ ہم جانتے ہیں کہ ایسا مسح کرنا نہ اہل سنت میں ہے نہ اہل تشیع میں ۔ پس ایسے ضعیف اور عجیب و غریب روایت بیان کرنے والے راوی کی حدیث پر ہمیں اطمئنان نہیں اور اللہ تعالیٰ نے ظن پر عمل کرنے سے منع فرمایا ہے پس ہم اس کی دونوں روایات کو قبول نہیں کر سکتے ۔ جبکہ تیسری روایت میں مور کو مسخ شدہ کہنے والا حصہ علمائے حدیث کےد رمیان محل اختلاف ہے بہت سارے اخباری علماء و محدثین کہتے ہیں کہ یہ حدیث کا حصہ نہیں ہے اور غلطی سے شامل ہوا ہے اور اس کے علاوہ خود اس روایت کے راوی بھی مجہول ہیں اور مجہول انسان کی باتوں پر دنیا کے کاموں میں کوئی بھروسہ نہیں کرتا تو دین کے کاموں میں کیونکر بھروسہ کیا جاسکتا ہے؟
لہذا تینوں روایات ضعیف السند ہیں اور قابل اطمئنان نہیں ہیں جب کہ اس کے مقابلے میں معصومؑین علیہم السلام کے صحیح السند فرامین ہیں کہ جس پرندے کے اندر پوٹا ہو وہ حلال ہے اور مور کے اندر پوٹا موجود ہوتا ہے(جیساکہ قابل اعتماد بندوں نے ذبح کر کے تحقیق کی ہے) اور اسی طرح معصومؑ نے فرمایا کہ جو پرندہ اڑتے وقت زیادہ دیر پروں کو پھیلا کر نہ رکھتا وہ بھی حلال ہے اور اسی طرح معصومؑ نے فرمایا کہ جس پرندے کے پاؤں مرغی کی پاؤں کی طرح ہوں یعنی ان میں عقاب کی طرح کے بڑے ناخن نہ ہوں بھی حلال ہے اور مور کے پاؤں عقاب کی طرح کے نہیں بلکہ مرغی کی طرح کے ہیں بلکہ پرندوں کے علماء اسے مرغابی کے خاندان کا پرندہ مانتے ہیں ۔
٭ یہاں پر بہت سارے سوال جنم لیتے ہیں کہ جن میں سے بنیادی سوال یہ ہے کہ پھر مشہور علماء کو ان روایات کی خبر نہیں تھی کہ جو وہ مور کو حرام کہتے ہیں ؟
اس سوال کا جواب ہم تفصیلی جواب کے آخر میں دیں گے ۔
اور اسی طرح یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہر روایت ٹھیک ہے ؟ کیا راوی کے سچا اور جھوٹے ہونے کو دیکھنا چاہئے یا نہیں ؟ ان سب باتوں کا جواب ہم تفصیلی جواب میں دیں گے ۔ ان شاء اللہ
تفصیلی جواب:
٭سب سے پہلے ایک مہم نکتہ کو سمجھنا ضروری ہے کہ :
معصومؑ کا فرمان اور چیز ہے اور راوی کی روایت اور چیز ہے ، دونوں میں بہت فرق ہے۔
مزید تفصیل:
اگر ہم معصومؑ کی زبان سے ڈائریکٹ کوئی بات سنیں تو ہمیں سو فیصد یقین حاصل ہوجاتا ہے کہ یہ حکم ِ خدا وندی ہے اور اس میں کسی قسم کی شک کی کوئی گنجائش نہیں رہتی لیکن اگر ہم معصومؑ کی زبان سے ڈائریکٹ کوئی بات نہ سنیں بلکہ ہم دور دراز علاقے میں رہتے ہوں اور کوئی شخص معصومؑ ؑ کی ملاقات کر کے ہمارے لئے معصومؑ کی بات نقل کرے تو یہ بات اس بات کی طرح نہیں ہے کہ جو ہم نے معصومؑ کی زبان سے خود اپنے کانوں سے سنی ہے بلکہ یہ راوی کی نقل کردہ بات ہے اور راوی غیر معصومؑ ہے چاہے جتنا بھی متقی اور پرہیزگار انسان کیوں نہ ہو لیکن بہرحال انسان غیر معصومؑ ہے اور بھول بھی سکتا ہے ، نسیا ن بھی ہو سکتا ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس نے معصومؑ کی بات کو صحیح طرح سنا اور سمجھا ہی نہ ہو اور اگر وہ راوی ایسا ہو کہ جس کے تقویٰ اور سچے ہونے کا کچھ بھی پتہ نہ ہو تو پھر یہ بھی ممکن ہو جاتا ہے کہ ہو سکتا ہے وہ راوی معصومؑ پر جھوٹ بول رہا ہو اور غلط بیانی سے کام لے رہا ہو ۔
پس معصومؑ سے خود سننا اور ہے اور راوی سے سننا اور ہے کیونکہ اگر ہم معصومؑ سے خود سنیں تو ہمیں یقین حاصل ہوجاتا ہے اور (العیاذ باللہ) ہم معصومؑ ؑکے بارے میں ایسا ہر گز سوچ بھی نہیں سکتے کہ وہ اللہ کے حکم کو بیان کرنے میں کوئی غلطی کر سکتا ہے یا اسے نسیان ہو سکتا ہے، لیکن اگر ہم معصومؑؑ سے خود نہ سنیں بلکہ راوی آکر بتائے کہ معصومؑ نے یہ ارشاد فرمایا ہے تو بہرحال چونکہ راوی معصومؑ نہیں ہے لہذا غلطی کا امکان بہر صورت باقی رہتا ہے لیکن اس کے باوجود ہمیں معصومؑ علیہم السلام نے تعلیم دی ہے کہ اگر قابلِ اعتماد(ثقہ) ہماری بات کو نقل کرے تو تم اس کی بات پر عمل کر لو اور اسی طرح اگر ہماری بات کو اعدل(زیادہ عادل اور متقی) بیان کرے تو اس کی بات پر اعتماد کر لو ۔ تو ہم ظاہری طور پر غیر معصومؑ راوی کے بیان کردہ حکم ِ معصومؑ پر اعتماد کرتے ہیں لیکن ہم اسے کبھی بھی معصومؑ نہیں سمجھتے اور یہ امکان بہر صورت رہتا ہے کہ ہو سکتا ہے وہ بھول جائے یا ہو سکتا ہے وہ غلط بیانی کر دے جبکہ واقع اور حقیقت میں حکمِ معصومؑ کچھ اور ہو لیکن چونکہ وہ قابل اعتماد ہے اور عادل و متقی ہے تو ہم اس کی بات میں شک نہیں کریں گے ۔
اس کے باوجود بھی ہم اس کی بات کو معصومؑ کی بات کا درجہ نہیں دیں گے چونکہ عصمت اہل بیت ؑ کے ساتھ خاص ہے ہمارا کوئی راوی و صحابی معصومؑ نہیں ہے پس اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ اگر معصومؑ کی زبان سے نکلا ہوا کوئی جملہ غیر معصومؑ بیان کرے تو وہ جملہ معصومؑ کے جملے کا درجہ نہیں رکھتا اور علم اصول میں اسے حکم ظاہری سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔
پس اسی وجہ سے آغا سیستانی دام ظلہ اپنی کتاب منہاج الصالحین کے باب تقلید میں پہلا مسئلہ ہی یہی لکھتے ہیں کہ اگر انسان کو حکم واقعی کا علم ہو جائے تو اس پر تقلید کرنا جائز نہیں رہتا ۔
اور حکم واقعی کا علم تبھی ہوسکتا ہے کہ اگر ہماری ملاقات امام زمانہ ؑ سے ہو اور اہم ان سے اللہ کے حکم کو خود ہی پوچھ لیں ۔
اور یہ فقط غیبتِ امام زمانہ ؑ کی مشکل نہیں ہے بلکہ خود معصومؑ کے زمانے میں بھی جو لوگ معصومؑ ؑ سے حکم شرعی کو نہیں سنتے تھے اور دور دراز علاقوں میں رہتے تھے اور جو معصومؑ سے ملاقات کر کے آتا وہ بیان کرتا کہ معصومؑ نے یہ حکم دیا ہے اس کی بات سنتے تھے اور یہ واضح ہے کہ وہ بیان کرنے والا غیر معصومؑ ہے اور غلطی اور نسیان غیر معصومؑ سے ہو سکتی ہے لہذا اس کی بات کو حکم ِ ظاہری کا درجہ دیا جاتا اور یہ امکان باقی رہتا کہ ممکن ہے حکم واقعی یعنی حقیقی معصومؑ کا فرمان کچھ اور ہو ۔ لیکن اس کے باوجود شرعی ذمہ داری اسی قابل اعتماد راوی کی بات پر اعتماد کرنا ہوتی تھی ۔
توجہ:
لیکن اگر معصومؑ کا کلام تواتر کے ساتھ ثابت ہو جائے تو پھر غیر معصوم کے نقل کرنے والے پر یقین کامل حاصل ہوجاتا ہے ،کیونکہ تواتر کا مطلب ہی یہی کہ ہر دور میں اتنی زیادہ تعداد میں قابلِ اعتماد راوی معصومؑ کی بات کو نقل کریں کہ پھر ہمیں یقین ہو جائے کہ یقیناً معصومؑ نے یہی بیان فرمایا ہو گا جیسا کہ قرآن مجید تواتر کے ساتھ ثابت ہے اور اسی طرح دین کے موٹے موٹے احکام شراب کا حرام ہونا ، نماز کا واجب ہونا وغیرہ بھی تواتر کے ساتھ ثابت ہیں ۔
لہذا اگر ہر دور میں نقل کرنے والے قابل اعتماد لوگ بہت زیادہ نہیں ہیں بلکہ دو یا تین یا چند لوگ ہیں تو پھر ان کی بات سے یقین حاصل نہیں ہوتا اور اسے علماء اصول اخبار آحاد کہتے ہیں تواتر کے مقابلے میں ۔
خلاصہ:
روایات اگر تواتر کی حد تک نہ پہنچے تو ان روایات سے حکم ظاہری ثابت ہوتا ہے یعنی ایسا حکم کہ جس میں غلطی کا امکان بہر صورت رہتا ہو ۔ لیکن اس کے باوجود اس پر عمل کرنا بھی ضروری ہو۔
اب آتے ہیں اپنے موضوع کی طرف :
مور کے حلال اور حرام ہونے کے حوالے سے جتنی بھی ہمارے پاس معصومؑین علیہم السلام کے فرامین ہیں وہ سب راویوں کے نقل شدہ احکام ہیں ۔ یعنی اوپر والے بیان کے مطابق ہمارے پاس معصومؑ کا حقیقی فرمان نہیں ہے کہ جسے ہم نے خود معصومؑ سے سنا ہو بلکہ ہزاروں سال قبل جن راویوں نے معصومؑ سے سنا تھا ہمارے پاس انہی راویوں کی نقل شدہ احادیث ہیں کہ جن میں غلطی کا امکان بہر حال موجود ہے اور ہم اپنے طور پر قدیم کتب میں ان راویوں کے بارے میں تحقیق کریں گے اور دیکھیں گے کہ کونسا راوی سچا ہے اور کونسا قابل اعتماد ہے اور کونسا عادل ہے تو ہم اسی قابل اعتماد کی بات کو قبول کریں گے کیونکہ دنیا کا اگر کوئی معاملہ ہو، ہم نے کسی کو پیسے دینے ہوں تو ہم مجہول الحال بندے تک کو پیسے نہیں دیتے بلکہ اپنا کاروبار کرنے کےلئے بھی قابل اعتماد انسان تلاش کرتے ہیں تو ظاہری بات ہے دین کی اہمیت دنیا سے بھی زیادہ ہے تو لہذا جب دین کو ہم نے لینا ہو گا تو بھی ہم قابل اعتماد راوی تلاش کریں گے یا اگر راوی قابل اعتماد نہ ملا تو ہم دیگر شواہد سے دلائل جمع کریں گے کہ جس سے یہ بات ثابت ہو کہ جو بات معصومؑ کی طرف سے ہم تک پہنچی ہے وہ قابلِ اعتماد ہے ۔
اور اسی بات کو خود قرآن مجید نے بھی بیان فرمایا ہے کہ کسی فاسق کی خبر کو نہ لو بلکہ تحقیق و جستجو کرو ۔
يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا إِنْ جاءَكُمْ فاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ
تُصيبُوا قَوْماً بِجَهالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلى ما فَعَلْتُمْ نادِمين
(حجرات 6)
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تم تحقیق کر لیا کرو، کہیں(ایسا نہ ہو کہ) نادانی میں تم کسی قوم کو نقصان پہنچا دو پھر تمہیں اپنے کیے پر نادم ہونا پڑے۔
یعنی :قرآن فرما رہا ہے کہ:
فاسق کی بات پر بھروسہ نہ کرو بلکہ چھان بین کرو ،تو کیا جھوٹا انسان فاسق نہیں ہوتا؟
اور پھر قرآن نے اس کی خوبصورت علت بھی بیان فرمائی کہ :
اگر تم جھوٹے کی بات کے بارے میں چھان بین نہیں کرو گے تو اپنی جہالت اور نادانی کی بناء پر ظلم کر بیٹھو گے۔
اس میں واضح لکھا ہے کہ ِ(بِجَهالَةٍ) کہ اپنی نادانی اور جہالت کی وجہ سے ۔
یعنی انسان اگر کسی بندے کو نہیں جانتا اور وہ کوئی خبر دیتا ہے تو اگر ہم اس کی بات پر عمل کر لیں تو ہمیں نقصان پہنچ سکتا ہے پس ایک مجہول اور نہ جاننے والے انسان کی وجہ سے ہم نقصان میں پڑ سکتے ہیں لہذا اس پر بھروسہ نہیں کرنا چاہئے بلکہ ضروری ہے کہ ہم چھان بین کریں اور اگر چھان بین کئے بغیر ہر مجہول اور نہ جاننے والی کی بات کو مانتے جائیں گے تو یہ ظن ، خیال اور وھم کی پیروی ہوگی اور قرآن واضح فرما رہا ہے:
وَ ما يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلاَّ ظَنًّا إِنَّ الظَّنَّ لا يُغْني مِنَ الْحَقِّ شَيْئاً
(یونس36)
اور ان کی اکثریت تو صرف ظن کی پیروی کرتی ہے جبکہ ظن حق کے بارے میں کوئی فائدہ نہیں پہنچاسکتا۔
پس خلاصہ کلام یہ ہوا کہ قرآن کے مطابق فاسق ، مجہول انسان کے کہنے پر کوئی فیصلہ کر دے تو یہ غلط ہے اور ظن کی اتباع ہے ۔
اور بالکل اسی قرآن کی آیت کی طرح معصومؑ نے بھی ارشاد فرمایا:
جب امام علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ دو بندوں نے آپ کی حدیث کے بارے میں اختلاف کر دیاتو ہم کس کی بات کو مانیں؟تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ جو زیادہ سچا ہو اس کی بات کو مانو ۔
وَ اخْتَلَفَا فِيمَا حَكَمَا وَ كِلَاهُمَا اخْتَلَفَا فِي حَدِيثِكُمْ قَالَ الْحُكْمُ مَا حَكَمَ بِهِ أَعْدَلُهُمَا وَ أَفْقَهُهُمَا وَ أَصْدَقُهُمَا فِي الْحَدِيثِ وَ أَوْرَعُهُمَا وَ لَا يَلْتَفِتْ إِلَى مَا يَحْكُمُ بِهِ الْآخَر
(اصول کافی ج1 ص68
اور اسی طرح تہذیب ، من لایحضرہ الفقیہ اور وسائل الشیعہ میں بھی اسی طرح کی بہت ساری احادیث کو نقل کیا گیاہے۔)
ترجمہ:
ان دونوں نے حکم لگانے میں اختلاف کیا اور وہ دونوں آپ کی حدیث میں بھی اختلاف کرتے ہیں تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: جو حدیث بیان کرنے میں سب زیادہ عادل، زیادہ فقاہت رکھنے والا اور زیادہ سچا ہو گا اسی کا حکم ہوگا اور دوسرے نے جو حکم لگایا ہے اس کی طرف نہیں دیکھا جائے گا۔
یعنی راوی کہتا ہےکہ :دو بندوں نے حکم لگانے میں اختلاف کیا اور ہر ایک آپ کی حدیث میں
(فِي حَدِيثِكُمْ)
میں اختلاف رکھتا ہے یعنی دونوں کے پاس مختلف طرح کی حدیثیں ہیں تو امام علیہ السلام نے ایک معیار دے دیا کہ افضل انسان( یعنی زیادہ سچے ، زیادہ عادل ، زیادہ فقیہ ) کی حدیث کو لے لو ۔
اگر ہم معصومؑ کی اس روایت میں غور فرمائیں تو یہ معلوم ہوگا کہ:
د و الگ طرح کی حدیثیں رکھنے والے سچے اور عادل تھے یعنی دونوں سچے تھے لیکن پھر بھی امام علیہ السلام نے فرمایا کہ: جو زیادہ سچا ہو اس کی بات کو مانو ۔
تو مؤمنین کرام ! اگر ایک راوی جھوٹا ہو یا مجہول الحال ہو جبکہ دوسری حدیث کا راوی اس کے مقابلے میں سچا اور قابل اعتماد ہو تو کیا مجہول الحال اور جھوٹے کی روایت کو لینے کی امام اجازت دے دیں گے؟؟
ہر گز نہیں ! جب دو سچوں میں سے ایک زیادہ سچا ہو تو اس دوسرے سچے کی حدیث کو لینے سے منع فرما دیا تو جب ایک ہو ہی جھوٹا ، یا ایک کے سچے اور جھوٹے ہونے کا پتہ ہی نہ ہو (مجہول الحال) تو بدرجہ اولیٰ اس کی بیان کردہ حدیث کو لینے سے منع ہوگا۔( جب قرآن نے والدین کو اف کہنے سے منع فرما دیا تو یقینا ً ان کو مارنے اور گالم گلوچ سے بھی منع ہوگا۔ (اب اسے قیاس نہ کہہ دیجیے گا۔۔۔۔ اور یہ نہ کہئے گا کہ قرآن نے اف کہنے سے منع کیا ہے ، والدین کو گالیاں دینے اور مارنے سے تو منع نہیں کیا ۔۔ تو اگلا یہی جواب دے گا کہ جب اف تک کرنے سے منع کر دیا تو یقیناً جو اف سے بڑھ کر بدتمیزی ہے اس سے بھی منع فرما دیا ہے ۔)
اسی طرح جب سچے کے مقابلے میں زیادہ سچا آجائے تو اس سچے کی روایت کو بھی لینے سے منع فرما دیا اور جب دوسری طرف انسان ہو ہی جھوٹا یا اس کے سچا جھوٹے کا پتہ ہی نہ ہو تو یقیناً اس کی بات کو بغیر چھان بین کئے لے لینا بھی منع ہے ۔
اور اسی طرح اصول کافی میں ہے:
عَنْ أَبِي الْحَسَنِ ع قَالَ سَأَلْتُهُ وَ قُلْتُ مَنْ أُعَامِلُ أَوْ عَمَّنْ آخُذُ وَ قَوْلَ مَنْ أَقْبَلُ فَقَالَ لَهُ- الْعَمْرِيُّ ثِقَتِي فَمَا أَدَّى إِلَيْكَ عَنِّي فَعَنِّي يُؤَدِّي وَ مَا قَالَ لَكَ عَنِّي فَعَنِّي يَقُولُ فَاسْمَعْ لَهُ وَ أَطِعْ فَإِنَّهُ الثِّقَةُ الْمَأْمُونُ(الكافي (ط - الإسلامية) ؛ ج1 ؛ ص330)
امام علیہ السلام سے ایک شخص سوال کرتا ہے کہ میں کس کی بات کو لوں ؟تو امام علیہ السلام نے فرمایا :عمَری ہمارا ثقہ ہے اور جو وہ ہمارے طرف سے بتائےتو پس وہ ہماری طرف سے ہوگا اور جو ہمارے بارے میں تمہیں بتائے تو وہ بھی ہماری طرف سے کہے گا پس اس کی بات کو سنو اور اس کی اطاعت کرو وہ ثقہ اور قابل اعتماد ہے۔
اسی طرح بہت ساری روایات میں ہیں کہ جن میں معصومؑ علیہ السلام ہمیشہ فرماتے تھے کہ ہمارے قابل اعتماد اصحاب اور راویوں سے ہمارے فرامین لیا کرو ۔ ان سب روایات کو ذکر کروں تو کافی بات لمبی ہوجائے گی ۔
اوراس میں شک بھی نہیں ہے کہ خود رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ہی جھوٹے راویوں نے رسول خدا ﷺ پر جھوٹ بولنا شروع کر دیا تھا اور یہی حالات معصومؑ کے زمانے کے بھی تھے ، اب اس ضمن میں تمام روایات کو بیان کروں تو موضوع کافی لمبا ہوجائے گا۔
بہرحال جب روایات میں جھوٹ اور تحریف ہوئی ہے تو ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم قابل اعتماد راویوں کو تلاش کریں یا پھر کسی اور ذریعے سے روایت کے صحیح ہونے پر شواہد جمع کریں اور پختہ دلائل سے یقین و اطمئنان کی منزل پر پہنچے کیونکہ ظن اور وہم سے قرآن نے منع فرما دیا ہے اور اسی طرح قیاس بھی ہمارے مذہب میں حجت نہیں ہے ۔
اور یہ طریقے کونسے ہیں ؟ علم رجال کب سے شروع ہوا ؟ کس نے لکھا؟ یہ ایک الگ تفصیلی موضوع ہے ، عربی میں کتابیں اس پر موجود ہیں ، عربی جاننے والے مؤمنین علم رجال کی کتب میں تاریخ علم الرجال کی بحث کا مطالعہ کر سکتے ہیں کہ کس طرح خود معصومؑ کے زمانے میں ہی رجال کی کتب لکھی گئیں ، اس بحث کو آیت اللہ شیخ سند حفظہ اللہ نے بھی اپنی کتاب میں بہت خوبصورت اور آسان فہم اندا ز میں بیان فرمایا ہے ،
ملاحظہ فرمائیں:
بحوث فی علم الرجال شیخ سند ۔ بحث بدایۃ علم الرجال ص11۔ الحاجۃ لعلم الرجال ص23،اور اسی طرح شیخ جعفر سبحانی حفظہ کی کتاب کلیات فی علم الرجال کی الفصل الثانی الحاجۃ الی علم الرجال ص33، اور اسی طرح علم رجال میں امام کے زمانے کی کتب اور اس کی تاریخ و ضرورت پر علامہ عبد الھادی فضلی کی کتاب اصول علم الرجال ،الباب الثانی تاریخ علم الرجال ص41 ملاحظہ فرما سکتےہیں ۔
٭٭٭٭٭٭
اب آتے ہیں کہ مور کو حرام کہنے والی روایات کے کیا حالات ہیں ؟
مور کو حرام کرنے والی ہماری پاس ٹوٹل تین روایات ہیں اور ان میں سے بھی دو روایات ایک ہی راوی کی ہیں کہ جس کا نام بکر بن صالح ہے اور ایک روایت احمد ابن علی کی ہے ۔
ہم ان روایات کو تفصیل سے لکھتے ہیں اور پھر ہر ایک پر تبصرہ کرتے ہیں کہ جس کا خلاصہ یہی ہے کہ بکر بن صالح ضعیف اور عجیب و غریب قسم کی روایات کرنے والا راوی ہے لہذا اس کی روایت سے ظن ہو گا اور قرآن نے ظن پر عمل کرنے سے روکا ہے اور تیسری روایت کا خود مور والا حصہ ہی متن کے لحاظ سےمشکوک ہے اور راوی بھی مجہول الحال ہیں ۔
بکر بن صالح کی دو روایات:
بکر بن صالح کی دو روایات ہیں پہلی میں ہے کہ مور اور اس کا انڈہ حرام ہے یہ اصول کافی میں ہے ۔
دوسری میں مور کے مسخ ہونے کی تفصیل ہے کہ پہلے یہ خوبصورت مرد تھا اور پھر۔۔۔۔ اور مسخ کا کھانا حرام ہے ۔یہ اصول کافی میں بھی ہے اور یہی روایت تہذیب میں بھی ہے ۔
روایت نمبر1:
[9]عِدَّةٌ مِنْ أَصْحَابِنَا عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ بَكْرِ بْنِ صَالِحٍ عَنْ سُلَيْمَانَ الْجَعْفَرِيِّ عَنْ أَبِي الْحَسَنِ الرِّضَا ع
قَالَ الطَّاوُسُ لَا يَحِلُّ أَكْلُهُ وَ لَا بَيْضُهُ
(الكافي ج : 6 ص : 245)۔
ترجمہ روایت:
امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:
مور کا کھاناحلال نہیں ہے اور نہ ہی اس کا انڈا کھانا حلال ہے۔
روایت نمبر2:
بکر بن صالح کی دوسری روایت ہے:
[16] عِدَّةٌ مِنْ أَصْحَابِنَا عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ بَكْرِ بْنِ صَالِحٍ عَنْ سُلَيْمَانَ الْجَعْفَرِيِّ عَنْ أَبِي الْحَسَنِ الرِّضَا ع قَالَ الطَّاوُسُ مَسْخٌ كَانَ رَجُلًا جَمِيلًا فَكَابَرَ امْرَأَةَ رَجُلٍ مُؤْمِنٍ تُحِبُّهُ فَوَقَعَ بِهَا ثُمَّ رَاسَلَتْهُ بَعْدُ فَمَسَخَهُمَا اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ طَاوُسَيْنِ أُنْثَى وَ ذَكَراً وَ لَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ وَ لَا بَيْضُهُ
(الكافي ج : 6 ص : 247)
ترجمہ :
مور مسخ شدہ مخلوق ہے ، یہ ایک خوبصورت مرد تھا اس نے ایک مومن کی بیوی پر غلبہ حاصل کیا جو اس سے محبت کرتی تھی ، بعد ازاں اس سے خط و کتابت کی پس خدا نے ان دونوں کو مسخ کر کے نر و مادہ بنا دیا نہ اسکا گوشت کھایا جائے گا اور نہ ہی انڈا۔
نوٹ:بالکل یہی دوسری روایت تہذیب میں بھی ہے۔
(تهذيبالأحكام ج : 9 ص : 18)
بکر بن صالح کون؟
جواب: رجالالنجاشي /ص109 : ضعيف
اس کی تضعیف نجاشی ، ابن غضائری، برقی نے کی ہے اور کسی نے بھی اس کو ثقہ نہیں کہا ہے ۔ بلکہ اس کو عجیب و غریب قسم کی روایتیں نقل کرنے والا کہا گیا ہے ۔اس کی عجیب و غریب روایتوں میں سے ایک نمونہ ملاحظہ فرمائیں کہ جس میں یہ کہتا ہے کہ :
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ:
جب وضوء کرو تو پاؤں کا اوپر نیچے سے مسح کرو ایک ہاتھ اوپر رکھو اور دوسرا اس کے نیچے رکھ کر کے انگلیوں تک مسح کرو ۔
روایت کا عربی متن:[94]
وَ أَمَّا مَا رَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى عَنْ بَكْرِ بْنِ صَالِحٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ عَنْ زُرْعَةَ عَنْ سَمَاعَةَ بْنِ مِهْرَانَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ إِذَا تَوَضَّأْتَ فَامْسَحْ قَدَمَيْكَ ظَاهِرَهُمَا وَ بَاطِنَهُمَا ثُمَّ قَالَ هَكَذَا فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى الْكَعْبِ وَ ضَرَبَ الْأُخْرَى عَلَى بَاطِنِ قَدَمِهِ ثُمَّ مَسَحَهُمَا إِلَى الْأَصَابِعِ
(التھذیب ج 1 ص92)
یاد رہے کہ :اس روایت کو تقیہ پر بھی حمل کرنا ممکن نہیں کیونکہ کوئی بھی اہل سنت میں سے اس طریقے کا قائل نہیں ہے کہ پاؤں کا اوپر نیچے دونوں طرف سے مسح کیا جائے کیونکہ اہل سنت تو سرے سے پاؤں کے مسح کے قائل ہی نہیں ہیں ۔ پھر کہنا کہ بکر بن صالح کا یہ روایت کرنا کہ پاؤں کا اوپر اور نیچے دونوں طرف سے مسح کرو اہل سنت سے تقیہ کی وجہ سے ہے کیسے درست ہے؟؟ ۔۔۔ اگر وہ کہتا کہ پاؤں دھو لو تو پھر تقیہ ہوتا کیونکہ اہل سنت وضوء میں پاؤں دھوتے ہیں ۔
پس بکر بن صالح ایک ضعیف راوی ہے اور کثیر التفر د بالغرائب کا لقب رکھتا ہے۔ پس چونکہ یہ ضعیف ہے تو اس کی روایت سے ظن حاصل ہوگا اور ظن پر عمل کرنے سے قرآن سے روکا ہے ۔
روایت نمبر3:
شیخ صدوق نے من لایحضرہ الفقیہ میں روایت نقل کی ہے:
وَ سَأَلَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ أَبَا جَعْفَرٍ ع عَنْ لُحُومِ الْخَيْلِ وَ الدَّوَابِّ وَ الْبِغَالِ وَ الْحَمِيرِ فَقَالَ حَلَالٌ وَ لَكِنَّ النَّاسَ يَعَافُونَهَا
وَ إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ص عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ بِخَيْبَرَ لِئَلَّا تَفْنَى ظُهُورُهَا وَ كَانَ ذَلِكَ نَهْيَ كَرَاهَةٍ لَا نَهْيَ تَحْرِيمٍ وَ لَا بَأْسَ بِأَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الْوَحْشِيَّةِ وَ لَا بَأْسَ بِأَكْلِ الْآمِصِ وَ هُوَ الْيَحَامِيرُ وَ لَا بَأْسَ بِأَلْبَانِ الْأُتُنِ وَ الشِّيرَازِ الْمُتَّخَذِ مِنْهَا
وَ لَا يَجُوزُ أَكْلُ شَيْءٍ مِنَ الْمُسُوخِ وَ هِيَ الْقِرَدَةُ وَ الْخِنْزِيرُ وَ الْكَلْبُ وَ الْفِيلُ وَ الذِّئْبُ وَ الْفَأْرَةُ وَ الْأَرْنَبُ وَ الضَّبُّ وَ الطَّاوُسُ وَ النَّعَامَةُ وَ الدُّعْمُوصُ وَ الْجِرِّيُّ وَ السَّرَطَانُ وَ السُّلَحْفَاةُ وَ الْوَطْوَاطُ وَ الْبَقْعَاءُ وَ الثَّعْلَبُ وَ الدُّبُّ وَ الْيَرْبُوعُ وَ الْقُنْفُذُ مُسُوخٌ لَا يَجُوزُ أَكْلُهَا
(منلايحضرهالفقيه ج : 3 ص : 335)
ترجمہ روایت:
محمد بن مسلم نے امام محمد باقر علیہ السلام سے گھوڑے ، باربرداری کے جانور خچر اور گدھے کے گوشت کے متعلق سوال کیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: حلال ہے مگر لوگ ان کو چھوڑ دیتے ہیں۔
اور رسول ﷺ نے خیبر میں پالتو گدھے کے گوشت کےلئے منع فرمایا تھا تاکہ وہ پشت ہی ختم نہ ہوجائے جس پر سواری یا باربرداری کی جا سکے اور یہ منع کرنا کراہت تھا نہ کہ حرام ہونا ۔
اور وحشی گدھوں کا گوشت کھانے میں کوئی حرج نہیں ، بارہ سنگا کھانے میں بھی کوئی حرج نہیں ، گدھی کا دودھ پینے میں جس سے شیرازہ بناتے ہیں کوئی حرج نہیں ہے ۔
اور مسوخات میں سے کسی کا کھانا جائز نہیں ہے اور وہ مندرجہ ذیل ہیں:
بندر ، سور کتا ، ہاتھی ، چوہا ، خرگوش، گوہ ، مور ، شتر مرغ ، جونک ، بام مچھلی ، کیکڑا، کچھوا ، چمگادڑ ، لومڑی ، ریچھ ، یربوع (ایک قسم کا چوہا جس کی اگلی ٹانگیں چھوٹی اور پچھلی بڑی ہوتی ہیں) ساہی یہ سب مسخ شدہ ہیں ان کا کھانا جائز نہیں ہے ۔
اب اس روایت میں شیخ صدوق نے واضح لکھا ہے کہ مور مسخ شدہ جانوروں میں سے ہے لہذا اس کا کھانا حرام ہے۔
اب ہم بیان کرتے ہیں کہ شیخ صدوق علیہ الرحمہ کی من لا یحضرہ الفقیہ کی روایات میں کیا اعتراضات ہیں کہ جس کی وجہ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مور مسخ شدہ جانوروں میں سے ہے ۔
پہلا اعتراض
تو خود روایت کی عبارت پر ہے: (یعنی مور کو مسخ کہنے والا حصہ روایت کا حصہ نہیں ہے)
شیخ صدوق علیہ الرحمہ کی روایت تین حصوں پر مشتمل ہے:
پہلا حصہ :
محمد بن مسلم نے امام محمد باقر علیہ السلام سے گھوڑے ، باربرداری کے جانور خچر اور گدھے کے گوشت کے متعلق سوال کیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: حلال ہے مگر لوگ ان کو چھوڑ دیتے ہیں۔
دوسرا حصہ: اور رسول ص نے خیبر میں پالتو گدھے کے گوشت کےلئے منع فرمایا تھا تاکہ وہ پشت ہی۔۔۔۔ آخر تک
تیسرا حصہ:
اور مسوخات میں سے کسی کا کھانا جائز نہیں ہے اور وہ مندرجہ ذیل ہیں:
بندر ، سور کتا ، ہاتھی ،۔۔۔۔ آخرتک۔
اب یہاں پر علمائے حدیث کی بحث ہے کہ آیا یہ تینوں جملے اما م علیہ السلام کی روایت کے حصے ہیں؟
1:فیض کاشانی نے
(الوافی ج19 ص33) میں اس روایت کے ذیل میں لکھا کہ:
یہ احتمال موجود ہے کہ ممکن ہے بعض حصے روایت کے ہوں یا ہو سکتا ہے پورے حصے روایت کے ہوں ۔
یعنی فیض کاشانی کے مطابق روایت کے تمام حصوں کا امام علیہ السلام کی حدیث کا حصہ ہونا مشکوک ہے پس مشکوک اور وہم و گمان پر ہم عمل نہیں کرسکتے ۔
2:
شیخ حر عاملی نے وسائل الشیعہ میں (ج24 ص122)
میں شیخ صدوق علیہ الرحمہ کی اسی روایت کو نقل فرمایا تو فقط پہلا جملہ نقل فرمایا باقی دو جملے نقل ہی نہیں فرمائے ۔
3:
خود شیخ صدوق علیہ الرحمہ نے اپنی دوسری کتاب الخصال(الخصال ج2 ص494) ایک روایت نقل کی کہ جس میں مسخ شدہ کی تعداد کو تیرہ شمار کیا تو اس میں مور کا ذکر ہی نہیں کیا ۔
پس مذکورہ بیان کے مطابق یہ ممکن ہے کہ من لایحضرہ الفقیہ کی روایت میں مور کو حرام کرنے والا حصہ شیخ صدوق رح کا اپنا اضافہ ہو چونکہ وہ اپنی کتاب میں بہت سارے مقامات پر اپنے فتاویٰ کو اضافہ کرتے ہیں۔
پس مذکورہ روایت کا مور کو مسخ کہنے والا حصہ کم از کم مشکوک ہے اور قرآن نے مشکوک پر عمل کرنے سے منع فرمایا ہے اور واضح آیت ہے کہ ان الظن لا یغنی من الحق شیئاً
اس کے علاوہ خود روایت کی عبارت میں غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ:
جب راوی نے گھوڑے ، باربرداری کے جانور خچر اور گدھے کےبارے میں سوال کیا ہے تو مناسب ہے اسی کا جواب دیا جائے جو کہ پہلے دو جملوں میں مکمل ہو گیا ، اب یہ سوال راوی نے پوچھا ہی نہیں کہ مسخ شدہ کا کیا حکم ہے اور ان کی تعداد کتنی ہے جب راوی نے پوچھا ہی نہیں تو امام علیہ السلام کا نہ بتانا زیادہ مناسب لگتا ہے ۔
اور پھر:
پہلے جملے کا انداز یہ ہے کہ "حلال ہے" جب کہ باقی دوسرے جملے میں "رسول خدا ﷺ"نے فرمایا ہے لہذا ہر جملے کی تعبیر کا الگ ہونا بتاتا ہے کہ روایت کا فقط ایک ہی جملہ ہے باقی حصے غلطی سے آگئے ۔
٭پس اخباری محدثین میں سے شیخ حر عاملی کا اور فیض کاشانی کا یہ کہنا کافی درست لگتا ہے کہ تیسرا حصہ روایت میں موجود ہی نہیں۔
٭ مذکورہ بیان کے مطابق تیسرے جملے کے بارے میں یقین نہیں ہے بلکہ مشکوک ہے اور مشکوک جملے کو امام کی طرف نسبت دینا یعنی ظن پر عمل کرنا ہے جو کہ قرآن اور اسلام کی رو سے غلط ہے اور فعل حرام ہے ۔ جیسا کہ واضح ہے
(ان الظن لا یغنی من الحق شیئا ، آللہ اذن لکم ام علی اللہ تفترون
دوسرا اعتراض:
روایت کی سند کا ضعیف ہونا:
من لایحضرہ الفقیہ کی اس روایت کو شیخ صدوق نے محمد بن مسلم الثقفی سے نقل کیا ہے اور مشیخۃ میں انہوں نے یہ بیان فرمایا ہے کہ جس روایت میں محمد بن مسلم ہے تو اس کو میں نے علی بن احمد بن عبد اللہ بن احمد بن ابی عبد اللہ عن ابیہ عن جدہ احمد بن ابی عبد اللہ عن ابیہ محمد بن خالد عن العلاء بن رزین عن محمد بن مسلم سے نقل کیا ہے۔
مشائخ صدوق میں سے علی ابن احمد مجہول ہیں اور ان کے والد احمد بن عبد اللہ بھی مجہول ہیں ، اوران کے دادا یعنی محمد بن خالد برقی کے بارے میں شیخ طوسی کی توثیق اور نجاشی کی تضعیف کا ٹکراؤ ہے ۔
رجال النجاشی ص 335 والا کہتا ہے کہ محمد بن خالد البرقی ضعیف ہے اور رجال الطوسی ص 363 والا کہتا ہے کہ یہ ثقہ ہے ۔ پس جہاں ٹکراؤ ہو جائے تو اس بات کا کوئی اعتبار نہیں رہتا کیونکہ معاملہ مشکوک ہو جاتا ہے اور ظن میں چلا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ علماء کا قاعدہ ہے کہ اذا تعارضا تساقطا کہ جب دو باتیں ٹکرا جائیں تو دونوں کا اعتبار ساقط ہو جاتا ہے کوئی بات بھی قابل اعتماد نہیں رہتی ۔
پس مذکورہ وجوہات کی وجہ سے ممکن ہے کہ آغا سید سیستانی دام ظلہ نے من لایحضرہ الفقیہ کی روایت پر اعتماد نہ کیا ہو لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ انہوں نے مور کو اپنی جیب اور اپنے قیاس سے حلال کر دیا ہو بلکہ مور کے حلال ہونے کےلئے ہمارے پاس بہت ساری صحیح السند روایات موجود ہیں کہ جن میں امام علیہ السلام نے پرندے کے حلال ہونے کی علامات بیان فرمائی ہیں اور وہ علامات مور میں موجود ہیں جیسا کہ ایک علامت پرندے کے حلال ہونے کی اس کے اندر پوٹے کا ہونا ہے کہ جس میں دانے جمع ہوتے ہیں اور مور کو جب ذبح کیا گیا تواس میں یہ پوٹاموجود تھا تو پس مور خود امام علیہ السلام کے فرمان کے مطابق حلال ہے چونکہ امام نے فرمایاکہ جس پرندے میں پوٹا ہو وہ حلال ہے تم اسے کھاؤ۔
٭٭٭٭٭٭
مور کو حلال کہنے والی کونسی روایات ہیں؟
جواب:
وہ روایات کہ جن میں امام علیہ السلام نے کسی بھی پرندے کے حلال ہونے کی علامات بتائی ہیں وہ سب کی سب روایات مور کے حلال ہونے پر دلیل ہیں ۔
اور یہ روایات بہت زیادہ ہیں اور اکثر صحیح السند ہیں اور ان کی عبارت میں کسی کو کوئی بھی اعتراض نہیں ہے ، ہم چند ایک روایات کا یہاں پر تذکرہ کرتے ہیں:
روایت 1:
[3] عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ الزَّيَّاتِ عَنْ زُرَارَةَ أَنَّهُ قَالَ وَ اللَّهِ مَا رَأَيْتُ مِثْلَ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَطُّ وَ ذَلِكَ أَنِّي سَأَلْتُهُ فَقُلْتُ أَصْلَحَكَ اللَّهُ مَا يُؤْكَلُ مِنَ الطَّيْرِ فَقَالَ كُلْ مَا دَفَّ وَ لَا تَأْكُلْ مَا صَف
(الكافي ج : 6 ص : 248)
ترجمہ:
زرارۃ کہتا ہے کہ میں نے امام أبو جعفر علیہ السلام جیسا کوئی نہیں دیکھا اور میں نے ان سے سوال کیا اور کہا کہ اللہ آپ کی حفاظت فرمائے کونسے پرندے کھا سکتےہیں؟ تو امام علیہ السلام نے جواب دیا:
ہر وہ پرندا جو پروں کو پھڑپھڑاتا ہو اسے کھاؤ اور وہ پرندہ جو پروں کو پھیلا کر رکھتا ہو اسے نہ کھاؤ ۔
یعنی جب پرندہ اڑتا ہے تو دیکھو کہ کیا وہ پروں کا زیادہ حرکت میں رکھتا ہے یا پروں کا پھیلا کر زیادہ رکھتا ہے ؟ اگر وہ زیادہ دیر تک پروں کو پھیلا کر رکھتا ہو اور پروں کو حرکت بہت کم دیتا ہو تو وہ پرندہ حرام ہے جیسے شاھین اور کوے ہیں ،لیکن اگر وہ اڑتے وقت پروں کو زیادہ دیر تک پھیلا کر نہ رکھتا ہو بلکہ پروں کو حرکت زیادہ دیتا ہو اور تھوڑی دیر کےلئے جیسے اترتے وقت پروں کو پھیلا کر رکھتا ہو تو وہ حلال ہے ۔
اور اسی مطلب کو ایک روایت میں امام علیہ السلام نے بیان فرمایا:
وَ فِي حَدِيثٍ آخَرَ إِنْ كَانَ الطَّيْرُ يَصُفُّ وَ يَدُفُّ فَكَانَ دَفِيفُهُ أَكْثَرَ مِنْ صَفِيفِهِ أُكِلَ وَ إِنْ كَانَ صَفِيفُهُ أَكْثَرَ مِنْ دَفِيفِهِ فَلَمْ يُؤْكَل
(منلايحضرهالفقيه ج : 3 ص : 322 )
ترجمہ:
امام علیہ السلام نے فرمایا: اگر ایک پرندہ اڑتے وقت پروں کو پھڑپھڑاتا بھی ہو اور پھیلا کر بھی رکھتا ہو تو جس پرندے کا پروں کو پھڑ پھڑانا ، پروں کو پھیلا کر رکھنے سے زیادہ ہو تو اسے کھایا جائے گا اور اگر اس پرندے کا پروں کو پھیلا کر رکھنا ، پروں کو پھڑپھڑانے سے زیادہ ہو تو اسے نہیں کھایا جائے گا۔
٭ مور کے بارے میں یہ بات تحقیق سے ثابت ہے کہ جب یہ اڑتا ہے تو پروں کو حرکت زیادہ دیتا ہے ، ہاں البتہ پروں کو پھیلا کر بھی رکھتا ہے جیسا کہ کبوتر بھی پروں کو پھیلا کر رکھتا ہے لیکن اس کا پروں کو پھیلا کر رکھنا عقاب کی طرح نہیں ہے کہ جو بہت ہی کم پروں کو حرکت دیتا ہے بلکہ مور پروں کو حرکت زیادہ دیتا ہے ۔یعنی پروں کو حرکت دینا زیادہے جبکہ پروں کو پھیلا کر رکھنا تھوڑا ہے یعنی فقط اسی وقت پروں کو پھیلا دیتا ہے جب وہ زمین پر اتر رہا ہو۔
٭ اور اگر دیکھنے والوں کا اختلاف ہو جائے کہ آیا یہ پروں کو زیادہ حرکت میں رکھنے والا پرندہ ہے یا زیادہ تر پروں کو پھیلا کر ساکت رکھنے والا عقاب کی طرح کا پرندہ ہے تو اس صورت میں اس پرندے کی دیگر علامات کو دیکھا جائے گا کہ جن میں سے بنیادی علامت اس کے اندر پوٹا اور سنگدان کا ہونا ہے ۔جیسا کہ روایت 2 میں ہم اسے بیان کرتے ہیں۔
روایت2:
[1] عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ مَحْبُوبٍ عَنْ سَمَاعَةَ بْنِ مِهْرَانَ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ع ۔۔۔وَ كُلُّ مَا دَفَّ فَهُوَ حَلَالٌ وَ الْحَوْصَلَةُ وَ الْقَانِصَةُ يُمْتَحَنُ بِهَا مِنَ الطَّيْرِ مَا لَا يُعْرَفُ طَيَرَانُهُ وَ كُلُّ طَيْرٍ مَجْهُولٍ
(الكافي ج : 6 ص : 247)
ترجمہ:
امام علیہ السلام نے فرمایا:
جو پرندہ پروں کو پھڑپھڑاتا ہو (اڑتے وقت) وہ حلال ہے اور جس کے اڑنے کا علم نہ ہوسکے یا جس کے بارے میں انسان جاہل ہو تو ایسے پرندے کے اندر پوٹے اور سنگدان کو دیکھا جائے گا۔
یعنی:
اگر اس پرندہ میں پوٹا ہوا کہ جس میں دانے جمع ہوتے ہیں یا سنگدان ہو کہ جس میں چھوٹی کنکریاں جمع ہوتی ہیں تو وہ پرندہ حلال ہے اور اسی مطلب کو روایت میں یوں بیان فرمایا گیا ہے:
فَكُلِ الْآنَ مِنْ طَيْرِ الْبَرِّ مَا كَانَتْ لَهُ حَوْصَلَةٌ وَ مِنْ طَيْرِ الْمَاءِ مَا كَانَ لَهُ قَانِصَةٌ كَقَانِصَةِ الْحَمَامِ لَا مَعِدَةٌ كَمَعِدَةِ الْإِنْسَانِ
((الكافي ج : 6 ص : 247))
ترجمہ :
امام علیہ السلام فرماتے ہیں:
پس خشکی کے ہر اس پرندے کو کھاؤ کہ جس کا پوٹا ہو اور پانی کے ہر اس پرندے کو کھاؤ کہ جس کاکبوتر کی طرح کا سنگدان ہو نہ کہ انسان کی طرح کا معدہ ہو ۔
٭ اور اہل تحقیق نے مور کو ذبح کر کے دیکھا ہے تو اس میں پوٹا موجود ہے اس کا معدہ انسان کے معدے کی طرح نہیں ہے پس امام علیہ السلام کی بتائی گئی علامت کے مطابق مور حلال شمار ہوگا۔
روایت3:
[3] عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنْ حَمَّادٍ عَنِ الْحَلَبِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ص قَالَ كُلُّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ وَ مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ حَرَامٌ
(الكافي ج : 6 ص : 245)
ترجمہ:
امام علیہ السلام فرماتے ہیں:
درندوں میں سے جس کے پنچے ہوں اور پرندوں میں سے جس کے ناخن ہوں وہ حرام ہیں ۔
ذی مخلب:
اس پرندے کو کہتے ہیں کہ جس کے شاھین کی طرح سے بڑے ناخن ہوں کو جو شکار کےلئے استعمال کئے جاتے ہوں ۔ پس جس پرندے کے عقاب کی طرح کاناخنوں والا پنجہ ہو گا وہ حرام ہوگا اور جس کا مرغی کی طرح کا پاؤں ہوگا وہ حلال ہوگا۔
٭ اہل تحقیق نے یہ بات ثابت کی ہے کہ مور کے پاؤں مرغی کی طرح کے ہیں نہ کہ عقاب اور شاہین کی طرح کے ناخنوں والے۔پس مور اس علامت کی وجہ سے بھی حلال ثابت ہو جائے گا۔
4:
بلکہ وسائل الشیعۃ والے نے تو پورا باب باندھا ہے کہ جس پرندے کے اندر پوٹا ہو گا وہ حلال ہوگا۔۔۔ملاحظہ فرمائیں:
وسائل الشيعة ؛ ج24 ؛ ص149
بَابُ تَحْرِيمِ الطَّيْرِ الَّذِي لَيْسَ لَهُ قَانِصَةٌ وَ لَا حَوْصَلَةٌ وَ لَا صِيصِيَةٌ مَا لَمْ يُنَصَّ عَلَى إِبَاحَتِهِ وَ عَدَمِ تَحْرِيمِ أَكْلِ مَا لَهُ أَحَدُهَا مَا لَمْ يُنَصَّ عَلَى تَحْرِيمِه
٭اب یہاں پر سوال ہوگا کہ پھر کیا وجہ ہے کہ مشہور علماء نے مور کو حرام کہا ہے ، کیا انہیں مذکورہ روایات کا علم نہیں تھا ؟
جواب:
اس جواب سے پہلے عرض خدمت یہ ہے کہ ہمارے مذہب شیعہ کا نظریہ یہ ہے کہ ہمارا مفتی غلطی کر سکتا ہے ایسا نہیں ہے کہ ہر مفتی کا فتویٰ حق پر ہو بلکہ یقیناً ایک حق پر ہوگا اور دوسرا باطل پر ۔ لیکن چونکہ ہمیں غیب کا علم نہیں ہے تو ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم ان میں سے زیادہ علم والے کو تلاش کریں اور اس کی بات پر اعتماد کریں چونکہ امام علیہ السلام سے جب یہی پوچھا گیا کہ دو بندے حکم شرعی کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں اور دونوں کے پاس احادیث ہیں تو کس کی بات کو مانا جائے تو امام علیہ السلام نےفرمایا:
10۔۔۔
وَ اخْتَلَفَا فِيمَا حَكَمَا وَ كِلَاهُمَا اخْتَلَفَا فِي حَدِيثِكُمْ قَالَ الْحُكْمُ مَا حَكَمَ بِهِ أَعْدَلُهُمَا وَ أَفْقَهُهُمَا وَ أَصْدَقُهُمَا فِي الْحَدِيثِ وَ أَوْرَعُهُمَا وَ لَا يَلْتَفِتْ إِلَى مَا يَحْكُمُ بِهِ الْآخَرُ
(الكافي ج : 1 ص : 68)
ترجمہ:
(امام علیہ السلام سے سوال کرنے والا سوال کر رہا ہے کہ) وہ دونوں حکم لگانے میں اختلاف کرتے ہیں اور وہ دونوں آپ کی حدیث کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں (یعنی دونوں کے پاس حدیث ہے ، قیاس نہیں) تو امام علیہ السلام نے فرمایا:
ان میں سے جو حدیث میں زیادہ عادل، زیادہ فقیہ اور زیادہ سچا ہو گا اور ان میں سے جو زیادہ پرہیز گار ہو گا اسی کا حکم مانا جائے گا اور دوسرے کی طرف توجہ نہیں دی جائے گی۔
پس ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم موجودہ دور میں زیادہ ماہر فقیہ اور اعلم کو تلاش کریں اور اسی کی تحقیق پر بھروسہ کریں۔
٭٭٭٭٭٭*"*********""""""********
بہرحال اب آتے ہیں اپنے سوال کے جواب کی طرف:
مشہور علماء نے کیوں مور کو حرام قرار دیا ؟
جواب:
1:
جس عالم کو جس حدیث پر اطمئنان حاصل ہوگا وہ اسی پر عمل کرے گا اور اس کےلئے جائز نہیں ہے کہ وہ ظن پر عمل کرے اور مشہور علماء کو مور کے حرام کہنے والی تین احادیث پر اطمئنان حاصل ہوگیا چونکہ مشہور علماء کا یہ نظریہ ہے کہ اگر کسی ضعیف حدیث پر مشہور علماء عمل کر رہے ہیں تو ہمیں اس حدیث کے ٹھیک ہونے کا اطمئنان حاصل ہوجاتا ہے لیکن یہ نظریہ بہت سارے موجودہ علماء کے نزدیک مقبول نہیں ہے ۔
2:اور اسی طرح بکر بن صالح کہ جس کو نجاشی والے نے ضعیف کہا ہے اس کے بارے میں بھی تحقیقات ہیں کیونکہ کتب تاریخ و رجال میں دو بکر بن صالح کا تذکرہ ہے کچھ کے مطابق یہ امام موسی کاظم علیہ السلام کے زمانے کا ہے اور کچھ کے مطابق امام رضا علیہ السلام کے زمانے کا ۔
ایک بکر بن صالح الرازی ہے اور دوسرے کا الرازی لقب نہیں ہے اور یوں ایک تفصیلی بحث ہے کہ آیا مور کو حرام کہنے والی روایت میں بکر صالح وہ الرازی ہے جو کہ ضعیف ہے اور عجیب و غریب روایت بیان کرنےوالا راوی ہے یا وہ کوئی اور بکربن صالح ہے ۔
اب جس محقق کو جیسے شواہد ملے اور جن دلائل وشواہد پر وہ مطمئن ہوا اس نے اس کے مطابق عمل کیا ممکن ہے کہ مور کو حرام کہنے والوں کے نزدیک بکر بن صالح دو بندے ہوں اور روایت میں بکر بن صالح الرازی نہ ہو اور اس پر ان کے پاس دلائل و شواہد موجود ہوں جوکہ ان کےلئے قابلِ اطمئمان ہوں اور اس کے مقابلے میں دوسری تحقیق یہ ہے کہ بکر بن صالح ایک ہی بندہ ہے کبھی الرازی کے ساتھ ذکر ہوتا ہے اور کبھی اس کے بغیر لہذا یہ ضعیف ہے ۔(بکر بن صالح کی تفصیلی تحقیق کےلئے معجم سید خوئی ؒ ،اور دیگر کتب رجال کے علاوہ کتب فقہی میں
بکر بن صالح کی رجالی و تاریخی ابحاث کو دیکھا جاسکتا ہے )
٭علم رجال میں ایک نظریہ ہے کہ اگر کسی ضعیف راوی سے بہت سارے ثقہ افراد روایت نقل کر رہے ہوں تا کیا اس ضعیف راوی پر اعتماد حاصل ہو جائے گا یا نہیں؟
اب یہاں پر بحث و تحقیق کے بعد جن کو اعتماد اور اطمئنان حاصل ہوگیا وہ بکر بن صالح کی روایت پر عمل کریں گے اور جن افراد کو اعتماد و اطمئنان حاصل نہیں ہوگا وہ شرعی طور پر بکر بن صالح کی روایت پر عمل نہیں کر سکتے ۔
٭ کیا ہر انسان کا اطمئنان الگ ہو سکتا ہے؟
جواب:
جی ہاں!
بالکل بحث و تحقیق کے بعد بھی ایسے مراحل آجاتے ہیں کہ ہر کوئی اپنے نظریے پر مطمئن رہتا ہے اور دوسرے کے نظریے پر اسے اطمئنان حاصل نہیں ہو پاتا ، ہم اس بات کی وضاحت دو مثالوں سے کرتے ہیں
مثال1:
ہم نے قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھنی ہے اور ہمیں یقین ہے کہ قبلہ رخ دائیں طرف ہے لیکن ہمارے دوسرے دوست کو ہماری بات پر اطمئنان حاصل نہیں ہوتا ، اب حقیقت میں قبلہ رخ ایک ہی طرف ہے لیکن یہاں پر ہر کوئی شرعی اعتبار سے اپنے یقین اور اطمئنان کے مطابق عمل کرے گا اور اس کےلئے جائز نہیں ہے کہ ظن یا وہم کے مطابق عمل کرے ۔
مثال2:
ہمیں یقین ہے کہ ہمارے ہوٹل والے ہمیں حلال گوشت کھلا رہے ہیں لیکن دوسرے بندے کو یقین ہے کہ وہ حرام گوشت کھلا رہے ہیں لیکن ہمیں اس کی بات اور اس کے شواہد سے اطمئنان حاصل نہیں ہوتا تو ہم اپنے یقین پر عمل کریں گے اور ہمارے لئے اس ہوٹل کا گوشت کھانا جائز ہوگا چونکہ ہمیں یقین ہے کہ وہ حلال گوشت ہے جبکہ دوسرے بندے کو چونکہ اس گوشت کے حرام ہونے کا یقین ہے لہذا اس کےلئے وہی گوشت کھانا حرام ہو گا ، اب حقیقت میں یا گوشت حلال ہوگا یا حرام ، اور ہم علم غیب نہیں جانتے پس ہماری شرعی ذمہ داری ہے ہم ظن اور وہم پر عمل نہ کریں بلکہ اپنے یقین پر عمل کریں ۔
بالکل اسی طرح فقہاء جب روایات میں تحقیق کرتے ہیں تو مختلف شواہد اور دلائل کی بنیاد پر کسی کو اس حدیث کے یقین اور صحیح ہونے کا یقین اور اطمئنان حاصل ہو جاتا ہے جبکہ دوسرے کو اس حدیث کے صحیح ہونے کا (دلائل و شواہد کی بنیاد پر) یقین و اطمئنان حاصل نہیں ہو پاتا ، اب جس کو یقین و اطمئنان حاصل ہو گیا اس کےلئے ظن نہیں ہے وہ اس حدیث پر عمل کر سکتا ہے لیکن جس کو حدیث کے صحیح ہونے کا یقین حاصل نہیں ہوسکا اس کےلئے شرعی طور پر اس حدیث پر عمل کرنا جائز نہیں ہے چونکہ یہ حدیث اس کےلئے ظن آور ہے اور ظن پر عمل کرنا جائز نہیں ہے۔
٭ پس مذکورہ بیان کی بنیاد پر یہ واضح ہوجاتا ہے کہ مکتب تشیع کا کوئی فقیہ بھی قیاس نہیں کرتا اور نہ ہی اپنی ذاتی رائے پر عمل کرتا ہے بلکہ وہ اپنی محنت اور استعداد کے مطابق تحقیق کرتا ہے اور جس روایت و حدیث پر اسے اطمئنان حاصل ہو جاتا ہے اس کو اپنا لیتا ہے اور جس روایت پر اسے اطمئنان نہیں حاصل ہوتا تو چونکہ یہ اس کے نزدیک ظن ہے اسے چھوڑ دیتا ہے ۔ لیکن حقیقت ِ حال تو امام زمانہ ؑ ہی جانتے ہیں ۔ اس کے باوجود ہر ایک اپنے شرعی وظیفہ تحقیق و جستجو پر عمل کر تاہے اور قیاس نہیں کرتا ، اور یہی اختلاف خود معصومؑ کے زمانے میں بھی ہوتا تھا کہ جس پر بہت ساری روایات مذکور ہیں کہ ایک روایت ہم نے شروع میں ذکر بھی کی ہے۔
یہ ایک الگ موضوع ہے کہ معصومؑ کے زمانے میں اختلاف حکم کی کیا وجوہات تھیں؟ روایات میں اختلاف کیوں ہے؟ راوی کے سچے اور جھوٹے کی پہچان کا کیا طریقہ ہے؟ یہ تفصیلی بحث ہے کہ جس کو مختلف موضوعات میں تقسیم کر کے ہر ایک پر الگ الگ تفصیلی کتب لکھی گئی ہیں کہ جن کو اس مختصر مضمون میں بیان کرنا ناممکن ہے اور ان شاء اللہ (محمد و آل محمد ﷺ کے صدقے سے) ہم مختصر طور پر ہر ایک موضوع کو سوال و جواب کی شکل میں آسان فہم بنا کر پیش کرنے کی کوشش کریں گے ۔
منجانب: مدرسہ و موسسہ علمیہ باب الحوائج فاونڈیشن ایران و پاکستان .
009899100987105
Tnaqvi565@gmail.com
خدا ہم سب مؤمنین کو آپس میں اتحاد و اتفاق عطا فرمائے اور اپنے اختلافی مسائل کو علمی انداز اور خوش اسلوبی سے حل کرنے کی توفیق دے ۔ آمین
اللھم صل علی محمد و آل محمد وعجل فرجھم
شریعت میں مور کے مکمل احکمات فرامین معصومین کی روشنی میں و مجتہدین کی نظر و تفصیلی بحث علمی ۔
Reviewed by MOULANA SYED MUHMMAD TAQI NAQVI QUMI
on
September 13, 2024
Rating:
Reviewed by MOULANA SYED MUHMMAD TAQI NAQVI QUMI
on
September 13, 2024
Rating:
No comments:
Don't comment spam.