banner image

شوہر ‏بیوی ‏یا ‏نا ‏محرم ‏کے ‏درمیان ‏نماز ‏میں ‏کتنا ‏فاصلہ ‏ضروری ‏ہے؟

شوھر بیوی یا کسی اور محرم میں نماز پڑھتے وقت کتنا فاصلہ ھونا چاھیے؟


یہ اس صورت میں ہے جب دونوں نماز کی حالت میں ھوں

اس حکم میں محرم اور نا محرم میں کوئی فرق نہیں

یہ حکم صرف بالغ مرد و خاتون کے لئے ہے

پس اگر ایک نابالغ ہے تو کوئی حرج نہیں

*آیت اللہ سید سیستانی دام ظلہ کے نزدیک*

جب مرد اور عورت ایک جگہ نماز پڑھ رہے ہوں تو اختیاری حالت میں احتیاط لازم کی بناء پر دونوں برابر یا عورت آگے ہو کے نماز نہیں پڑھ سکتی
بلکہ یا تو عورت اتنی مقدار میں پیچھے کھڑی ہو کہ اس کے سجدے کی جگہ مرد کے کے سجدے کی حالت میں گھٹنوں سے آگے نہ جائے یا درمیان میں پردہ ہو یا ساڑھے 4 میٹر دونوں کے درمیاں فاصلہ ہو، یا دونوں کی نماز پڑھنے کی جگہ ایک شمار نہ ہو جیسے ایک اونچائی پر نماز پڑھ رہا ہو اور آگے ہونا یا برابر ہونا نہ کہا جائے

  *آیت اللہ الشیخ اسحاق الفیاض دام ظلہ اور آیت اللہ العظمی الشیخ الوحید حفظہ اللہ صرف ایک بالشت کا فاصلہ کافی سمجھتے ہیں*

*جبکہ آیت اللہ العظمی السید السعید الحکیم دام ظلہ کے نزدیک ایک بالشت کا فاصلہ بھی شرط نہیں ہے*

بلکہ احتیاط مستحب ہے کہ ایک ساتھ یا خاتون آگے ہو کر نماز نہ پڑھے

*سید سیستانی دام ظلہ کے مقلدین اس مسئلہ میں آیات عظام*

*الشیخ الفیاض، السید الحکیم یا الشیخ الوحید میں سے ایک  کی طرف رجوع کر سکتے ہیں*

*آیت اللہ خامنہ ای دام ظلہ کے نزدیک کم از کم ایک بالشت کا فاصلہ ضروری ھے*

يہ حكم اختيارى صورت ميں ہے عمومى جگہيں جيسے بيت اللہ ، مسجد نبوى اور زيارت گاہيں ہيں وہاں ازدھام و رش ہونے كى وجہ سے يہ حكم جارى نہيں ہو گا اور عورت مرد سے آگے نماز پڑھ سكتى ہے

*البتہ آقائے خوئی* کے مقلدین وھاں بھی نماز سے پہلے اس کا خیال رکھیں ھر طرف سے فاصلہ کم از کم ایک بالشت ھو
کاوش : مولانا سید محمد تقی نقوی قمی ۔
شوہر ‏بیوی ‏یا ‏نا ‏محرم ‏کے ‏درمیان ‏نماز ‏میں ‏کتنا ‏فاصلہ ‏ضروری ‏ہے؟ شوہر ‏بیوی ‏یا ‏نا ‏محرم ‏کے ‏درمیان ‏نماز ‏میں ‏کتنا ‏فاصلہ ‏ضروری ‏ہے؟ Reviewed by MOULANA SYED MUHMMAD TAQI NAQVI QUMI on September 13, 2024 Rating: 5

No comments:

Don't comment spam.

Powered by Blogger.