✅ عقلمند:
🔰 شرم و حیا عقلمند اور باخبر ہونے کی نشانی ہے:
🌷🌷حضرت امام علی علیہ السلام:
🔴 أعْقَلُ النَّاسِ أَحْيَاهُم
🔵 با حیا ترین انسان ہی عقلمند ترین انسان ہے
📚 تصنيف غرر الحكم و درر الكلم، ص256، فضيلة الحياء
🌷🌷حضرت امام علی علیہ السلام:
🔴 الْحَيَاءُ وَ الدِّينُ مَعَ الْعَقْلِ حَيْثُ كَانَ۔
🔵 عقل جہاں کہیں بھی ہو حیا اور دین بھی اسی کے ساتھ ہونگے
📚 كشف الغمة في معرفة الأئمة (ط - القديمة)، ج2، ص269۔
🌷🌷حضرت امام علی علیہ السلام:
🔴 هبَطَ جَبْرَئِيلُ عَلَى آدَمَ ع فَقَالَ يَا آدَمُ إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أُخَيِّرَكَ وَاحِدَةً مِنْ ثَلَاثٍ فَاخْتَرْهَا وَ دَعِ اثْنَتَيْنِ فَقَالَ لَهُ آدَمُ يَا جَبْرَئِيلُ وَ مَا الثَّلَاثُ فَقَالَ الْعَقْلُ وَ الْحَيَاءُ وَ الدِّينُ فَقَالَ آدَمُ إِنِّي قَدِ اخْتَرْتُ الْعَقْلَ فَقَالَ جَبْرَئِيلُ لِلْحَيَاءِ وَ الدِّينِ انْصَرِفَا وَ دَعَاه فَقَالاَ يَا جَبْرَئِيلُ إِنَّا أُمِرْنَا أَنْ نَكُونَ مَعَ اَلْعَقْلِ حَيْثُ كَانَ قَالَ فَشَأْنَكُمَا وَ عَرَجَ .
🔵 حضرت جبرئیل جناب آدم علیہ السلام پر نازل ہوئے، فرمایا: اے آدم! مجھے حکم ہے کہ آپ کو تین چیزوں میں کسی ایک کے انتخاب کرنے کا اختیار دوں لہذا ایک کا انتخاب کریں اور دو کو چھوڑ دیں۔ جناب آدم علیہ السلام نے سوال کیا: اے جبرئیل وہ تین چیزیں کیا ہے؟ فرمایا: عقل، حیا اور دین۔ جناب آدم علیہ السلام نے فرمایا: میں عقل کا انتخاب کرتا ہوں۔ جبرئیل نے حیا اور دین سے کہا: واپس جاؤ اور اسے چھوڑ دو۔ ان دونوں نے کہا: اے جبرئیل! ہمیں حکم ہے کہ ہم عقل کے ساتھ ہی رہیں وہ جہاں بھی رہے۔ فرمایا: تمہیں اختیار ہے اور واپس چلے گئے۔
📚 الكافي (ط - الإسلامية)، ج1، ص10، كتاب العقل و الجهل
✅ مومن
🔰 حیا اور ایمان کا آپس میں گہرا رابطہ ہے کہ اگر حیا نہ ہو تو ایمان بھی نہیں، جب تک انسان اخلاقی فضائل کا معتقد نہیں ہوتا حیا کی تجلیّات دکھائی نہیں پڑتیں:
🌷🌷حضرت امام باقر و امام صادق علیہما السلام:
🔴 الْحَيَاءُ وَ الْإِيمَانُ مَقْرُونَانِ فِي قَرَنٍ فَإِذَا ذَهَبَ أَحَدُهُمَا تَبِعَهُ صَاحِبُهُ.
🔵 حیا اور ایمان ایک ہی رسّی میں ساتھ ساتھ ہیں جب بھی دونوں میں سے کوئی ایک اُٹھ جاتا ہے تو دوسرا بھی اس کے ساتھ چل پڑتا ہے
📚الكافي (ط - الإسلامية)ِ، ج2، ص106، باب الحياء
🌷🌷حضرت امام علی علیہ السلام:
🔴إنَّ الْحَيَاءَ وَ الْعِفَّةَ لَمِنْ خَلَائِقِ الْإِيمَانِ وَ إِنَّهُمَا لَسَجِيَّةُ الْأَحْرَارِ وَ شِيمَةُ الْأَبْرَارِ.
🔵 بیشک حیا اور عفت ایمان کی خصلتوں میں سے ہیں اور یہ دونوں آزاد لوگوں کی فطرت اور نیک لوگوں کی صفت ہیں۔
📚 عيون الحكم و المواعظ (لليثي)، ص153۔
🌷🌷حضرت امام علی علیہ السلام:
🔴 كثْرَةُ حَيَاءِ الرَّجُلِ دَلِيلُ إِيمَانِه
🔵 انسان میں حیا کی کثرت اسکے ایمان کی نشانی ہے
📚 تصنيف غرر الحكم و درر الكلم، ص257، فضيلة الحياء
✅ دیندار
🔰 اگر حیا نہ ہو تو دینداری مشکل کا شکار ہوجاتی ہے؛ ایمان، اخلاق اور احکام سبھی متاثر ہوتے ہیں؛ حیا ایسی صفت کا نام ہے جسے کہیں پر دین کا لباس کہا گیا ہے تو پورا کا پورا دین بتایا گیا ہے:
🌷🌷حضرت رسول اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم:
🔴ألحَیاء هُوَ الدّین کُلُّه
🔵 حیا تمام دین ہے
📚 نهج الفصاحه ص 453، ح1428.
🌷🌷حضرت امام علی علیہ السلام:
🔴أحْسَنُ مَلَابِسِ الدِّينِ الْحَيَاء
🔵 بہترین لباس دین، حیا ہے۔
📚عيون الحكم و المواعظ (لليثي)، ص118۔
کاوش: مولانا سید محمد تقی نقوی قمی ۔
عقلمند و دیندار و مومن اور با حیا کون ؟ در نظر آئمہ و اہلبیت ۔
Reviewed by MOULANA SYED MUHMMAD TAQI NAQVI QUMI
on
September 13, 2024
Rating:
Reviewed by MOULANA SYED MUHMMAD TAQI NAQVI QUMI
on
September 13, 2024
Rating:
No comments:
Don't comment spam.