﷽
BABUL HAWAIJ FOUNDATION INTERNATIONAL .IRAN.IRAQ.PAKISTAN.AFRICA.
تقلید کا حکم بزبان معصومین علیہم السلام ۔
Ⓜ
حدیث 0⃣1⃣0⃣⬇
امام باقر ؑ نے ابان بن تغلب سے فرمایا:
’’مسجد ِ مدینہ میں بیٹھ جائو اور لوگوں کو فتویٰ دو۔ کیونکہ میں اس بات کو پسند کرتا ہوںکہ میرے شیعوں میں تجھ جیسے افراد نظر آئیں‘‘
حوالہ: 1: رجال ِ نجاشی ۔ صفحہ 10۔ مئولف: الشیخ الجلیل ابو العباس احمد بن عباس نجاشیؒ 450 ہجری
2: الفہرست الطوسی ۔ باب 1۔ صفحہ 57۔ مئولف: شیخ طوسی ؒ 460 ہجری
3: خلاصۃ الاقوال۔باب 8۔ صفحہ 73 ۔مئولف: علامہ حِلیؒ 726 ہجری
4: مجالس المو منین۔ْ مجلس 4۔ صفحہ 572۔مئولف: شہید ِ ثالث قاضی نور اللہ شوشتری 1019 ہجری
ابان جو مجتہد اور صاحب ِ فتویٰ تھے امام ؑ نے انہیں فتویٰ دینے کاحکم صادر فرمایا تا کہ لوگ سُنیں اور اس پر عمل کریں امام ؑ کی نگاہ میں تمام مجتہدین اور صاحبان ِ فتویٰ ابان کی طرح ہیں ۔ یعنی حُکم ِ امام ؑ کے مطابق ہر شخص کیلئے جو خود مجتہد نہیں ہے ضروری ہے کہ وہ اپنے مورد ِ ابتلا ء مسائل میں کسی مجتہد کی تقلید کرے اور اس کے فتوئوں پر عمل کرے۔ اب اگر کوئی مجتہد فتویٰ دیتا ہے تو گویا وہ امام ؑ کے حُکم پر عمل کرتا ہے کیونکہ امام ؑ نے لوگوں کو فتویٰ دو کے الفاظ کہے۔ اور ساتھ ہی یہ الفاظ بھی کہے کہ میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ میرے شیعوںمیں تُجھ جیسے افراد نظر آئیں ۔ یہاں پہ امام ؑ نے تجھ جیسے کا لفظ استعمال کر کے بتا دیا کہ صرف ابان ہی کونہیں کہا بلکہ اس دائرے میں ہر وہ شخص آتا ہے جو فتویٰ دینے کی اہلیّت رکھتا ہو اور امام ؑ اس بات کو پسند بھی کرتے ہیں ۔ اس حدیث کے مطابق فتویٰ دینے والا بھی امام ؑ کے حُکم پر عمل کر رہا ہے اور جو لوگ اس کا فتویٰ سن کر اس کی بات پر عمل کرتے ہیں وہ بھی امام ؑ ہی کے قول پر عمل کر رہے ہیں ۔ اب جو شخص بھی اجتہاد و تقلید کے مخالف ہے گویا وہ امام ؑ کے قول کے مقابلے میں لوگوں کو اپنے قول پر عمل کرنے کی دعوت دے رہا ہے کہ امام معصوم ؑ تو کہہ رہے ہیں کہ فتویٰ دو اور لوگ اس پہ عمل کریں تقلید کریں اور وہ کہہ رہا ہے کہ میری بات مانو اور تقلید نہ کرو ۔
Ⓜ
٭حدیث0⃣2⃣0⃣⬇
امام جعفر صادق ؑ نے معاذ سے فرمایا : ہم نے سُنا ہے کہ تم مسجدوں میں جا کے لوگوں کو فتویٰ دیتے ہو؟
معاذ نے فرمایا : جی ہاں ۔ جو کُچھ میں نے آپ سے حاصل کیا وہ آپ کے ماننے والوں کو بیان کردیتا ہوں۔ تو امام ؑ نے معاذ کی تائید کرتے ہوئے فرمایا : ہاں ایسا ہی کیا کرو
حوالہ: وسائل ِ الشیعہ ۔ جلد 18۔ کتاب القضائ۔ ابواب الصفات القاضی۔ باب 11۔ حدیث 36۔ صفحہ 376۔
مئولف: علامہ حُر عاملی ؒ 1104 ہجری
معاذ بھی روایات ِ معصومین ؑ سے استنباط کر کے حُکم ِ الہٰی فتویٰ کی صورت میں لوگوں کو بیان کرتے تھے۔ امام ؑ نے بھی معاذ کے اس عمل کی تائید فرمائی۔ امام ؑ کی نظر مین معاذ اور دوسرے مُجتہدین یکساں ہیں یعنی مُجتہد کا فتویٰ لوگوں کیلئے حُجت ہے اور اس پر عمل ضروری ہے۔ اور مجتہد کبھی بھی فرمان ِ معصوم ؑ کے خلاف فتویٰ نہیں دیتا اس کا مآخذ قرآن و حدیث ہے آخر میں فتویٰ میں اختلاف کی وجہ بیان کی جائے گی۔ اب جو نادان کُچھ نہیں جانتے اور لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنے کیلئے فرمان ِ معصومین ؑ کی مخالفت کر رہے ہیں اور مجتہدّین کے خلاف محاذ کھڑا کیا ہوا ہے وہ بھی سُنیں۔
Ⓜ
0⃣3⃣⬅
رسول اللہؐ نے فرمایا: جو لوگوں کو علم کے بغیر فتویٰ دیتا ہے زمین و آسمان کے فرشتے اس پہ لعنت کرتے ہیں
حوالہ: وسائل ِ الشیعہ ۔ جلد 18۔ کتاب القضائ۔ ابواب الصفات القاضی۔ باب 8۔ حدیث 55۔ صفحہ 349
Ⓜ
1⃣⬅
امام صادق ؑ نے فرمایا: احکام ِ دین کی ترویج باطل سے نہ کرو اور جو نہیں جانتے اس کے متعلق فتوے نہ دو
( اصول ِ کافی ۔ جلد 1۔ کتاب العقل۔ باب 12۔ حدیث 1۔ صفحہ 86)
Ⓜ
2⃣⬅
امام باقر ؑ نے فرمایا: جو لوگوں کو بغیر علم کے فتویٰ دیتا ہے اس پر ملائکہ ِ رحمت اور ملائکہ ِ عذاب لعنت کرتے ہیں اور جس نے اُس کے اس فتوئے پہ عمل کیا اس کا گناہ بھی اسی کے سر آتا ہے
( اصول ِ کافی ۔ جلد 1۔ کتاب العقل۔ باب 12۔ حدیث 3۔ صفحہ 84)
یہاں پہ بات واضع کر دی معصومین ؑ نے کہ فتویٰ صرف علم والا ہی دے سکتا ہے جاہل نہیں دے سکتا۔
Ⓜ
٭ حدیث 3⃣⬇
ابو خدیجہ سے روایت ہے کہ امام صادق ؑ نے فرمایا : اپنے لوگوں میں سے ایک ایسے مرد کا انتخاب کرو جو ہمارے بتاے ہوئے حال و حرام سے واقِف ہو، پس وہ ایسا ہی ہے گویا میں نے اسے تمہارے لئے قاضی مقرّر کیا ہو
حوالہ: وسائل ِ الشیعہ ۔ جلد 18۔ کتاب القضائ۔ ابواب الصفات القاضی۔ باب 11۔ حدیث 6۔ صفحہ 370
اس روایت میں استدلال کی صورت یہ ہے کہ قضاوت میں فتویٰ صادر کرنا لازم ہوتا ہے، لہٰذا جب قضاء و فیصلہ نافذ العمل اور اُس کو رد کرنا صحیح نہ ہو تو پھر فتویٰ دینا اور اس پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔
Ⓜ
٭حدیث 4⃣⬇
دو فریقین میں تنازعہ کے فیصلہ کے بارے میں عمر بن حنظلہ نے امام جعفر صادق ؑ سے چند سوال پو چھے
ان میں سے ایک میں امام صادق ؑ نے فرمایا(مکمل حدیث آخر میں دی گئی ہے): ’’تم میں سے جو ہماری احادیث کی روایت کرنے والے ہیں ان دونوں کو انکی جانب متوجہ ہونا چاہئے اور جو ہمارے حلال و حرام کے بارے میں نظر رکھتے ہوں ہمارے احکام کا علم رکھتے ہوں اور دونوں کو اسی حکم پر راضی رہنا چاہیے میں نے ان کو تم پر حاکم بنایا ہے اگر وہ کوئی حُکم بیان کریں اور کوئی اسے قبول نہ کرئے تو گویا اس نے حُکم ِ خدا کی تحقیر کی ہے اور ہمارے حُکم کو رد کیا ہے۔اور ہمارے حکم کو رد کرنے والا خُدا کو ٹھکرانے والا ہے اور یہ شِرک باللہ کی حد میں ہے۔
پھر عمر بن حنظلہ نے پوچھا ۔اگر دونوں میں سے ہر ایک دو حاکمین کا انتخاب کرئے اور دونوں اپنے حق میں ان کے نظریات کو ماننے کیلئے راضی ہوں پھر دونوں منتخِب شُدہ کے حُکم میں اختلاف ہو جائے تو دونوں کو کیا کرنا چاہیے؟
امام ؑ نے فرمایا: اس کا حُکم نافذ ہو گا جو زیادہ عادل ہو اور جو زیادہ فقہ میں مہارت رکھتا ہو، زیادہ سچّا ہو اور زیادہ متّقی و پریز گار ہو
حوالہ: اصول ِ کافی۔جلد 1۔ کتاب العقل۔باب 22 (اختلاف ِ حدیث)۔حدیث 10۔ صفحہ 120
2: احتجاج ِ طبرسی۔ جلد 2۔ صفحہ 152۔ مئولف: علامہ طبرسیؒ
Ⓜ
٭ حدیث 5⃣⬇
امام زمانہ عجل اللہ فرجہ نے فرمایا: حوادث ِ زمانہ (مسائلِ شریعہ) میں ہمارے احادیث کے راویان کی طرف رجوع کرو وہ تم پر میری جانب سے حُجت ہیں اور میں اُن پر اللہ کی حُجت ہوں
حوالہ: کمال الدین وتمام النعمۃ۔ جلد 2۔ باب 45۔ حدیث 4۔صفحہ 459۔ مئولف: شیخ صدوق ؒ 381 ہجری
2۔ احتجاجِ طبرسی ۔ جلد 2۔ صفحہ 322۔ مئولف: علامہ طبرسیؒ چھٹی صدی ہجری
3۔ وسائل ِ الشیعہ ۔ جلد 18۔ کتاب القضائ۔ ابواب الصفات القاضی۔ باب 11۔ حدیث 9۔ صفحہ 370
نوٹ: راویان ِ حدیث کے مُتعلق پہلے بحث کی جا چُکی ہے۔
Ⓜ
٭ حدیث 6⃣⬇
امام حسن عسکری ؑ روایت ہے کہ امام صادق ؑ نے فرمایا: فقہا میں سے وہ ہے جو اپنے نفس کا مُحافظ ہو، دین کی حفاظت کرنے والا ہو، خواہشات ِ نفسانی کا مُخالف ہواپنے مولا کے حکم کا مُطیع ہو لہذا عوام کو چاہیے کہ اس کی تقلید کریں
حوالہ: احتجاج ِ طبرسی ۔ جلد 2۔ صفحہ 303۔ مئولف : ابو منصور احمد بن علی طبرسی ؒ چھٹی صدی ہجری
2: وسائل ِ الشیعہ ۔ جلد 18۔ کتاب القضائ۔ ابواب الصفات القاضی۔ باب 10۔ حدیث 20۔ صفحہ 366۔
مئولف: علامہ حُر عاملی ؒ 1104 ہجری
3: تنقیح المقال ۔ جلد 3۔ صفحہ 175۔ مئولف:علامہ عبد اللہ ممقانی ؒ
٭ نوٹ: اس حدیث میں امام ؑ واضع الفاظ میں ہمیں تقلید کا حُکم دیتے ہیں ۔
Ⓜ
٭حدیث 7⃣⬇
احمد بن حاتم ماہویہ سے راویت ہے
کہ اس نے امام علی نقی ؑ کی طرف یہ سوال لِکھ بھیجا اوراس کے بھائی نے بھی یہ سوال کیا کہ وہ اپنے معالم ِ دین کس سے اخذ کریں ؟ تب امام ؑ نے ان دونوں کو تحریر فرمایا: میں سمجھ گیا کہ جو کُچھ تم دونوں نے ذِکر کیا اور پوچھا ہے پس تم اپنے دین کے معاملے میں ہر اُس شخص کی طرف جائو کہ جس نے عمر کا ایک بڑا حِصہ ہماری مُحبت میں گُزارہ ہو اور ہر وہ شخص جو ہمارے امَر کے بارے میں بہت کوشش کرتا ہو، یہ دونوں طرح کے آدمی انشاء اللہ دین میں تمہارے لئے کافی ہیں
حوالہ: اختیار معرفۃ الرجال (رجال کشی)۔ حدیث 7۔ صفحہ 15 مئولف: شیخ طوسی ؒ
2: وسائل ِ الشیعہ ۔ جلد 18۔ کتاب القضائ۔ ابواب الصفات القاضی۔ باب 11۔ حدیث 45۔ صفحہ 375
Ⓜ
٭ حدیث 8⃣⬇
امام صادق ؑ سے عبداللہ بن یعفور نے عرض کی، میں ہر وقت آپ کے پاس رہ نہیں سکتا اور نہ اکثر یہاں آنا مُمکن ہوتا ہو، مگر ہمارے لوگوں میں سے جب کوئی شخص مُجھ سے سوال کرتا ہے تو میرے پاس اُس کی ہر بات کا جواب نہیں ہوتا ۔ اس پر امام ؑ نے فرمایا کہ محمد بن مُسلم ثقفی سے پوچھنے میں تُجھے کون سا امَر مانع ہے؟ جبکہ اس نے میرے والد گرامی سے احادیث کو سُنا اور وہ ان کے نزدیک مُحترم رہا ہے
حوالہ: وسائل ِ الشیعہ ۔ جلد 18۔ کتاب القضائ۔ ابواب الصفات القاضی۔ باب 11۔ حدیث 23۔ صفحہ 372
٭ نوٹ: 🈁📶⬇
یہ روایت اس بات پر شاہد ہے کہ آئمہ طاہرین ؑ کے اصحاب میں سے بعض کا بعض کی طرف رجوع کرنا اور فتویٰ لینا ایک معمول کے طور پر متعارف تھا۔
Ⓜ
٭ حدیث 9⃣⬇
یونس بن یعقوب سے روایت ہے کہ اس نے کہا ہم امام صادق ؑ کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ نے فرمایا، کیا تمہارے لئے تسلّی و تشفّی حاصل کرنے کی کوئی جگہ نہیں کہ جس سے تم راحت حاصل کرو؟ ہاں حارث بن مغیرہ نضری کے پاس جانے سے تمہیں کون سی چیز مانع ہے
حوالہ: وسائل ِ الشیعہ ۔ جلد 18۔ کتاب القضائ۔ ابواب الصفات القاضی۔ باب 11۔ حدیث 24۔ صفحہ 373
Ⓜ
٭ حدیث 0⃣1⃣⬇
امام علی رضا ؑ سے علی بن مسیّب ہمدانی نے عرض کی، کہ میں بہت دور رہتا ہوں اور بوقت ِ ضرورت آپ کے پاس نہیں پُہنچ سکتا، پس ایسی صورت میں اپنے دینی علوم و حقائق کس سے حاصل کروں ؟
تو امام ؑ نے فرمایا کہ تم اپنے مسائل زکریا بن آدم قمی سے اخذ کیا کرو جو دین و دُنیا میں امانت دار ہے
حوالہ: وسائل ِ الشیعہ ۔ جلد 18۔ کتاب القضائ۔ ابواب الصفات القاضی۔ باب 11۔ حدیث 27۔ صفحہ 373
Ⓜ
٭ حدیث1⃣1⃣⬇
عبد العزیز بن مہتدی جو امام رضا ؑ کا وکیل، آپ کا خاص معتمداور اہل ِ قُم میں سے بہترین شخص تھا انھوں نے امام رضا ؑ سے عرض کی کہ ہر ضرورت کے وقت میں آپکی خدمت میں حاضری سے معذور ہوں پھر میں اپنے دینی حقائق و مسائل کس سے اخذ کروں؟ تو امام ؑ نے فرمایا کہ اپنے مسائل یونس بن عبدالرحمن سے اخذ کیا کرو
حوالہ: وسائل ِ الشیعہ ۔ جلد 18۔ کتاب القضائ۔ ابواب الصفات القاضی۔ باب 11۔ حدیث 34۔ صفحہ 374
Ⓜ
٭ حدیث 2⃣1⃣⬇
عبد العزیز بن مہتدی نے امام رضا ؑ سے عرض کی کہ میں آپ سے دور کی مُسافت پہ ہوں اور بوقت ِ ضرورت حاضر نہیں ہو سکتا ، آیا میں اپنے دینی مسائل و معالم مولیٰ آل ِ یقطین سے حاصل کر لیا کروں ؟ تو امام ؑ نے فرمایا۔۔۔۔ ہاں ، اپنے مسائل اس سے اخذ کر لیا کرو
حوالہ: وسائل ِ الشیعہ ۔ جلد 18۔ کتاب القضائ۔ ابواب الصفات القاضی۔ باب 11۔ حدیث 35۔ صفحہ 374
Ⓜ
حدیث 8⃣ سے2⃣1⃣ تک میں واضع ہوتا ہے کہ آئمہ ؑ خود اپنے شیعوں کو بعض شیعوں کی طرف رجوع کرنے کا حُکم دیتے تھے
اس کے علاوہ بھی کافی روایات ہیں جن سے آئمہ ؑ کا اپنے شیعوں کو بعض شیعوں کی طرف رجوع کرنے اور اہل ِ علم کے فتویٰ کی حُجیت ا ور اس پر عمل کرنے کی تصدیق ہوتی ہے۔
٭ بقول شیخ طوسیؒ:
’’میں شیعہ امامیہ کو امیر المومنین ؑ کے زمانے سے آج تک (پانچویں صدی ہجری) اسی طرح دیکھتا ہوں کہ وہ اپنے فقہا سے وابستہ رہے اور وہ بزرگ فقہا انہیں فتویٰ دینے اور عمل کرنے میں رہنُمائی کرتے رہے‘‘
حوالہ: عُدۃ الاُصول، باب 11، فصل 2، فی ذکر صفات المفتی والمستفی وبیان احکامھا ۔ مئولف: شیخ طوسی ؒ 460 ہجری
کُچھ احادیث تبرُکاََ پیش ِ خدمت ہیں ۔
Ⓜ
1⃣⬅
رسول اللہ ؐ نے فرمایا : فقہا رسولوں کے امین ہیں
حوالہ: اصول ِ کافی ۔ جلد 1۔ کتاب العقل۔ باب 15۔ حدیث 5۔ صفحہ 91
Ⓜ
2⃣⬅
رسول اللہ ؐ اور امام صادق ؑ نے فرمایا : عالم کو عابد پر فضیلت اس طرح حاصل ہے جس طرح چودہویں کے چاند کو دوسرے
ستاروں پر۔تحقیق علماء انبیا ء کے وارث ہیں
حوالہ: اصول ِ کافی ۔ جلد 1۔ کتاب العقل۔ باب 3۔ حدیث 2۔ صفحہ 70
2: امالی شیخ صدوق ؒ 381 ہجری ۔ مجلس 14۔ حدیث 9۔ صفحہ 167
امام علی ؑ نے فرمایا: دین میں فقہ حاصل کرو کیونکہ علما ء انبیاء کے وارث ہیں
حوالہ: کتاب المواعظ۔ باب 3۔ صفحہ 63۔ مئولف: شیخ صدوق ؒ
Ⓜ
3⃣⬅
امام موسیٰ کاظم ؑ نے فرمایا: جب کوئی مومن فقیہہ مر جاتا ہے تو ملائکہ اس کیلئے روتے ہیں اور زمین کے وہ حصّے روتے ہیں جن پر اس نے خُدا کی عبادت کی ہو۔ اور وہ آسمان کے دروازے جن سے اس کے اعمال اوپر گئے ہوں۔ اور اس کے مرنے سے اسلام میں ایسا شگاف پڑتا ہے جسے کوئی شئے بند نہیں کر سکتی کیونکہ علمائے دین اسلام کے اسی طرح کے قلعے ہیں جس طرح شہرِ پناہ والی دیواریں شہر کے گِرد ہوتی ہیں
حوالہ: اصول ِ کافی ۔ جلد 1۔ کتاب العقل۔ باب 8۔ حدیث 3۔ صفحہ 79
Ⓜ
4⃣⬅
امام باقر ؑ نے اپنے آبائو اجداد کے ذریعے سے رسول ِ خداؐ سے روایت کی ہے جسکا کُچھ حصّہ پیش ِ خدمت ہے:
ومن قرا خمسما ئۃ آیۃِ کُتبَ من المُجتہدینَ
’’جو شخص پانچ سو آیات کی تلاوت رات کو کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کا نام مُجتہدوں میں تحریر فرمائے گا‘‘ اس حدیث میں ایک فضیلت کا تذکرہ ہے جس طرح چالیس احادیث یاد کرنے والا قیامت کے دن فقیہ کے طور پہ اُٹھایا جائے گا‘‘
حوالہ: امالی شیخ صدوق ؒ۔ مجلس 14۔ حدیث 7۔ صفحہ 166
Ⓜ
5⃣⬅
امام نقی ؑ نے فرمایا: اگر امام
قائم ؑ کی غیبت کے بعد عُلماء نہ ہوتے جو لوگوں کو اسکی طرف دعوت دیتے ہیں اور اس کی جانب رہنمائی کرتے ہیں ، خُدائی دلائل سے اس کا دفاع کرتے ہیں ، خُدا کے ضعیف و کمزور بندوں کو شیطان اور اس کے شاگردوں کے جال سے چھُڑاتے ہیں اور دُشمنان ِ اہل ِ بیت ؑ سے نجات دلاتے ہیں ۔ اگر یہ نہ ہوتے تو تمام لوگ دین ِ خُدا سے پلٹ کر مُرتد ہو جاتے، لیکن علماء وہ ہیں جو ہمارے ضعیف شیعوں کے دِلوں کی مُہار اپنے ہاتھ میں رکھ کر چلاتے ہیں جیسے کہ ملاح کشتی میں بیٹھنے والوں کو اپنے اختیار میں رکھتا ہے یہی لوگ خُدا کے نزدیک افضل و برتر ہیں
حوالہ: احتجاج ِ طبرسی ۔ جلد 2 ۔ صفحہ 299
🈴🈴🈴🈴🈴🈴🈴
تحقیق و کاوش : خطیب کربلاء مولانا سید محمد تقی نقوی قمی ۔
🈴🈴🈴🈴🈴🈴🈴
منجانب: ✳❇♻💠مدرسہ و موسسہ علمیہ باب الحوائج فاونڈیشن ایران٫عراق٫پاکستان٫تنزانیہ
🔚
tnaqvi565@gmail.com
00989109987105🔚
TAQLIED BAY ZUBAANAY ALAY.MUHMMAD ALAYH SALAAM .
Reviewed by MOULANA SYED MUHMMAD TAQI NAQVI QUMI
on
January 01, 2025
Rating:
No comments:
Don't comment spam.