banner image

شہادت ‏جناب ‏قنبر ‏پر ‏

🔵 شہادت جناب قنبرؓ 🔵

13 ماہ رمضان المبارک

 کو جناب قنبرؓ، جو حضرت علیؑ کے غلام تھے جنہیں تاریخ نے گمنام کرنا چاہا... کی شہادت پر عالم اسلام کی خدمت میں ہدیہ تعزیت پیش کرتے ہیں۔۔

جناب قنبرؓ ایران کے علاقے ہمدان کے رہنے والے تھے یا یمن کے قبیلہ ہمدانی کے فرد تھے. پچیس تیس برس کے تھے کہ ایک جنگ میں (غالبا عمری دور میں) گرفتار ہوکر مدینے آئے تو امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے خریدا اور ساتھ لے گئے. مسلمان مجاہدوں کے ہاتھوں لگے زخموں کو مولا نے اپنے دستِ شفقت سے صاف کیا، مرہم کیا اور دلجوئی کی.

مولا کے فیض سے قنبرؓ اسلام لائے اور جب قنبر تندرست ہو گئے تو مولا نے زرخرید قنبرؓ کو آزاد کر کے فرمایا کہ قنبرؓ چاہو تو اہنے وطن چلے جاؤ اور چاہو تو یہیں رہ لو لیکن قنبرؓ مولا کے قدموں سے لپٹ گئے اور آزاد ہونے کے بعد بھی حضرت علی علیہ السلام کا غلام رہنا پسند کیا.

آپکا نام قنبر تھا اور مدینے والے انہیں ہمدانی ہونے کے سبب ابوہمدان کہنے لگے.

سلمانؓ اور قنبرؓ تاریخ کے وہ دو فرد ہیں جنہوں نے اسلام لانے کے بعد اپنا کوئی اور تعارف پسند ہی نہیں کیا. ساری زندگی قنبرؓ سے عرب اسکا حسب نسب پوچھتے رہے اور قنبرؓ کا ایک ہی جواب رہا کہ:
انا مولیٰ من ضرب بالسیفین و طعن بر محین و صلی قبلتین و بایع البیعتین و ہاجر الھجرتین و لم یکفر باللہ طرفہ عین, انا مولی صالح المؤمنین و وارث النبیین و خیر الوصیین...

میں اسکا غلام ہوں جس نے ایک جنگ دو تلواروں سے لڑا، اور دو ہی نیزوں سے لڑا، اور دونوں قبلتین کی طرف نماز پڑھی، رسول اللہ (ص) کی دو دفعہ بیعت کی، جو زندگی بھر آنکھ جھپکنے کے برابر عرصے کے لئے بھی کافر نہ رہا... میں مؤمنین میں سے سب سے زیادہ صالح مرد کا غلام ہوں جو انبیاء کا وارث اور رسول اللہ (ص) کے اوصیاء کا سید و سردار ہے.
(تلخیصات ازشرح ابن حدید۔ مناقب ابن شہر آشوب۔ الکافی۔ رجال کشی)

جناب قنبرؓ علم وتقویٰ کے ساتھ ساتھ نڈر اور فصاحت و بلاغت کے انتہائی ماہر تھے کیونکہ مولا علیؑ کے حقیقی غلام تھے (کیونکہ ایک خط میں حضرت علیؑ نے کہا اے قنبر تم معرے ہو) جس کا ثبوت  حاکمِ شام  سے سخت گفتگو ھے جو تاریخ کے صفحات پر آج بھی موجود ھے.

قنبرؓ جنگ صفین میں مولا کے ایک دستے کے علمبردار تھے. روایات میں ہے کہ جب مولا کبھی سوتے تھے تو قنبر تلوار لیکر چپکے سے مولا کے سرہانے پہرہ دینے لگتے. اک دن مولا نے کہا کہ قنبر تم ایسا کیوں کرتے ہو تو قنبر نے کہا کہ اہل زمین سے آپکی حفاظت کرتا ہوں. مولا نے فرمایا کہ قنبر جب تک اللہ کا امر نہ ہو، ان میں سے کوئی میرے پہ غالب نہیں آسکتا.
(تلخیصات ازشرح ابن حدید۔ مناقب ابن شہر آشوب۔ الکافی۔ رجال کشی)

19 موکلان دوزخ کے واقعے سہرا بھی جناب قنبرؓ کی عظمت اور جسمانی طاقت کا منہ بولتا ثبوت ھے.

روایت میں آیا ہے کہ "قنبرؓ" کی بے احترامی کی گئی اور وہ بےچین ہوئے اور جواب دینا چاہتے تھے کہ.....
امام علیؑ نے فرمایا:
"ٹھہرو اے قنبر گالی دینے والے سے بے اعتنائی کرو اور اس کو اسی کی حالت پر چھوڑ دو تا کہ خدائے متعال کو خوش کرو اور شیطان کو غضبناک اور دشمن کو سزا دو (کیونکہ دشمن کی اس سے بڑھ کر کوئی سزا نہیں ہے کہ اس کا اعتنا نہ کیا جائے)  قسم اس خدا کی جو دانہ کو شگافتہ کرنے والا اور انسان کو پیدا کرنے والا ہے، مؤمن حلم و بردباری سے زیادہ کسی اور چیز سے خدا کو راضی نہیں کرتا ہے، غصہ کو ضبط کرنے سے زیادہ کسی اور چیز سے شیطان کو ناراض نہیں کرتا اور احمق کے مقابلہ میں خاموشی اختیار کرنے سے زیادہ اسے کسی چیز سے سزا نہیں دیتا ہے۔"
(بحار الانوار، ج ۷۱، ص ۴۲۴)

تاریخ میں متعدد بار قنبر نے اپنا یہی تعارف کرایا. حجاج بن نامعلوم معروف بہ ابن یوسف ملعون کو پتہ چلا تو جل بھن گیا کہ کوئی اپنا تعارف اس کے سوا کراتا ہی نہیں. حجاج کمینے نے جناب قنبر کو بلایا اور آتے ہی کہا تم کون ہو... من انت... حجاج نے یہ سوال اسی نیت سے کیا کہ اچانک سوال پر قنبر اپنا تعارف اپنے نام سے کرائے گا کہ انا ابوہمدان قنبر... لیکن قنبر نے فورا ہی کہا انا مولی...
یہ سن کر حجاج نے آپ کے قتل کا حکم دے دیا. 
(تلخیصات ازشرح ابن حدید۔ مناقب ابن شہر آشوب۔ الکافی۔ رجال کشی)

بعض روایات میں آپ کی شہادت 13 رمضان بتائی گئی ھے.

اور یوں مولا کی وہ بات بھی حق صادق ہوئی کہ قنبر تجھے موت نہیں ناحق ذبح کیا جائیگا.

امام زین العابدین علیہ السلام کی صحیفہ کاملہ کی دعا میں آپ کی شہادت پر دکھ کا اظہار بھی آپ کی عظمت کی نشانی ھے.

جناب قنبرؓ کا مزار روایات کے مطابق بغداد (محلہ یہود و نصاریٰ کے درمیان ایک علاقہ جناب قنبر کے نام سے منسوب) میں ھے. 

جناب قنبر کی مولا امام حسینؑ کے ساتھ کربلا میں نہ ھونے کی مختصر وجہ عھد معاویہ میں سخت قید تھی.

التماس دعا
مولانا سید محمد تقی نقوی قمی ۔ 
مدرسہ و موسسہ علمیہ باب الحوائج ایران و پاکستان۔
شہادت ‏جناب ‏قنبر ‏پر ‏ شہادت ‏جناب ‏قنبر ‏پر ‏ Reviewed by MOULANA SYED MUHMMAD TAQI NAQVI QUMI on September 13, 2024 Rating: 5

No comments:

Don't comment spam.

Powered by Blogger.