banner image

کونڈے ‏و ‏نذر ‏و ‏نیاز ‏کی ‏حقیقت ‏کیا ‏ہے؟ ‏

کونڈوں کی حقیقت:

مدرسہ علمیہ باب الحوائج ایران پاکستان ۔ 

22 رجب المرجب کو ہر سال پاکستان و ہندوستان کے اکثر مسلمانوں اور بالخصوص مومنین کے گھروں میں کونڈوں کی رسم ادا کیا جاتی ہے اور اسے امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک لکڑھارے کی کہانی کے ذریعے منسوب کیا جاتا ہے جبکہ
1. یہ کہانی کسی مستند کتاب میں کسی مستند راوی سے مروی نہیں ہے.
2. اس تاریخ کو یعنی 22 رجب کو نہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادت کا دن ہے اور نہ شہادت کا. آپ ع کی تاریخِ ولادت 17 ربیع الاول اور تاریخِ شہادت 15 شوال ہے.
3. کہانی میں بادشاہ اور وزیر کا ذکر ہے جبکہ اس زمانے میں مدینہ میں کوئی بادشاہ اور وزیر نہیں ہوتے تھے، امام جعفر صادق علیہ السلام کے دور میں بنو امیہ اور بنو عباس کے آمر حکومت کرتے تھے، امویوں کا دارالخلافہ شام اور عباسیوں کا بغداد تھا، پھر مدینہ میں بادشاہ اور وزیر کہاں سے آئے؟
4. اگر نذر و نیاز کے حوالے سے دیکھیں تو نذر و نیاز کی فضیلت ہی تب بڑھ جاتی ہے جب اسے یتیموں، غریبوں اور مسکینوں میں تقسیم کیا جائے جبکہ کونڈے گھر کے اندر بناکر گھر کے اندر ہی کھلائے جاتے ہیں جوکہ ایک غیر منطقی عمل ہے.
5. معاویہ کی موت 22 رجب کو نہیں ہوئی. معاویہ کو جو اپنا خالو سمجھتے ہیں ان کے نزدیک بھی ان کی موت 22 رجب کو نہیں ہوئی لہذا 22 رجب کو ان سے منسوب کرنا بھی بے بنیاد ہے.
6. اگر کونڈوں پر اعتبار نہ کرنے سے وزیر اور اسکی بیوی کو اتنی سخت سزاء ملی تھی تو آج بھی مجھ سمیت ان تمام مسلمانوں کو بھی ملنی چاہئے جو اس کہانی کو من گھڑت سمجھتے ہیں.
7. کونڈوں کی ابتداء انیسویں صدی میں ہندوستان سے ہوئی اور کونڈوں میں جو کچھ پکایا جاتا ہے وہ ہندوستانی ڈش ہے عربوں کی نہیں، یہ ڈش نہ اس وقت کے عربوں میں رائج تھی اور نہ آج ہے.
دراصل پاکستان و ہندوستان میں عوامی سطح پر اتنی غربت و مفلسی ہے کہ حالات سے پریشان لوگوں کو اگر کسی بھی عمل کے عوض مال و دولت کے حصول کا امکان نظر آئے تو یہ اس عمل کو انجام دینے کے لئے تیار ہوتے ہیں، جیسے آجکل پاکستان و ہندوستان میں عجیب و غریب بابے ہر شہر، ہر گاؤں اور ہر گلی میں بیٹھ کر غربت سے پسی عوام کو امیری کے خواب دکھاکر لوٹتے ہیں اور مزید غربت کے دلدل میں دھکیلتے ہیں اور حتی پاکستان و ہندوستان میں لوگ مال و دولت کی خاطر گدھوں کے مزاروں، ٹریکٹروں اور بندروں سے بھی منتیں مانگنے کے لئے تیار ہیں، لہذا مومنین ایسی من گھڑت رسومات سے خود کو بچاکر رکھیں. ہاں صدقہ اور نذر و نیاز سے انسان کی مشکلات ضرور دور ہوتی ہیں لیکن اس کے لئے سال میں کسی بھی دن کا انتخاب کر سکتے ہیں اور اسے ایک ہی چھت کے نیچے پکاکر وہی پر کھانا کسی بھی حوالے سے منطقی عمل نہیں لگتا بلکہ اسے جتنا زیادہ ہو سکے غریبوں، مسکینوں اور یتیموں تک پہنچایا جائے تاکہ خداوندمتعال متعال آپ کے اس عمل کے ذریعے آپکی مشکلات دور فرمائے، اور یہ عمل کرنے کے بعد فقط امام جعفر صادق علیہ السلام یا امام حسن علیہ السلام کو وسیلہ قرار نہ دیں بلکہ تمام آئمہ معصومین علیہم السلام کو وسیلہ قرار دیں، اسی میں بھلائی ہے. البتہ کونڈے بنانا بھی کوئی حرام عمل نہیں ہے لیکن ایک غیر مستند کہانی کو معصوم امام سے منسوب کرنا ناجائز عمل ہے.
واللہ اعلم بالصواب
کونڈے ‏و ‏نذر ‏و ‏نیاز ‏کی ‏حقیقت ‏کیا ‏ہے؟ ‏ کونڈے ‏و ‏نذر ‏و ‏نیاز ‏کی ‏حقیقت ‏کیا ‏ہے؟ ‏ Reviewed by MOULANA SYED MUHMMAD TAQI NAQVI QUMI on September 13, 2024 Rating: 5

No comments:

Don't comment spam.

Powered by Blogger.